خوردنی تیل کے حوالے سے انتہائی بری خبر آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری خالد محمود نے کہا کہ پاکستان خوردنی تیل درآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ کینولا کے تیل کا معیار عام سرسوں کی نسبت بہت اچھا ہے لہٰذا وطن عزیز میں کینولا کی کاشت کو فروغ دیکر خوردنی تیل کی درآمد پر آنیوالے اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینولا کو کلر اٹھی اور سیم زدہ زمینوں کے علاوہ ہر قسم کی زمین پر کاشت کیا جا سکتا ہے، کاشتکار زمین کی تیاری اچھی طرح کریں جس کیلئے 3سے 4 دفعہ ہل چلا کر سہاگہ چلائیں، ہائی برڈ اقسام اور منظور شدہ اقسام کا بیج استعمال کریں۔
چوہدری خالد محمود نے کہا کہ کینولا کا بہترین وقت کاشت یکم تا 30 اکتوبر ہے اور شرح بیج 80 فیصد سے زیادہ اگاؤ والا بیج ڈیڑھ تا2 کلو گرام فی ایکڑ ہے۔ کینولا کی پیداوار کیلئے قطاروں میں ڈرل کے ذریعے کاشت کریں اور قطاروں کا آپس میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ ہونا چاہیے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت نے کہا کہ اوسط زیرزمین کیلئے کینولا فصل کیلئے ایک تا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا اور پوٹاشیم سلفیٹ ایک بوری فی ایکڑ استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی اور پوٹاشیم سلفیٹ کی پوری مقدار زمین تیار کرتے وقت اور یوریا کی پوری مقدار پہلے پانی کے ساتھ ڈالنا بہتر ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
