Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت کس سیکٹر سے کتنا ٹیکس وصول کررہی ہے؟ آئی ایم ایف نے رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیدرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے جون 2024 تک 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان مانگ لیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ حکام کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، تاہم اس دوران وزارت خزانہ آئی ایم ایف کو جون 2024 تک 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان جمع کرائے گی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ پروجیکشن رپورٹ میں تمام سیکٹر سے محصولات کی رپورٹ پیش کی جائے گی، آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے زیر التوا ٹیکس کیسز پر پیشرفت پر بھی رپورٹ آج مانگ رکھی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس نیٹ میں شامل 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات آئی ایم ایف کو شیئر کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے مختلف شعبوں کے لحاظ سے ٹیکس وصولی کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا تھا کہ پروجیکشن رپورٹ میں تمام سیکٹرز سے محصولات کی رپورٹ پیش کی جائے، ایف بی آر ریونیو اہداف میں ٹیکس شارٹ فال نہیں کرے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 4.9 ملین ٹیکس دہندگان کو 10 ملین تک بڑھانے کیلئے آئی ایم ایف کیساتھ بات چیت ہوئی، تاہم آئی ایم ایف، عالمی بینک کے تعاون سے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے پر مشاورت کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر ریونیو محصولات کو بڑھایا جائے، ایف بی آر آئی ایم ایف کے مطالبات پر رپورٹ سوموار کو پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچا، جن میں 8 افراد شامل تھے جو اقتصادی جائزہ کیلئے پاکستان پہنچے تھے، مذاکرات میں وزارت خزانہ میں قائم آئی ایم ایف آفس کے 2 لوگ شریک ہوں گے، مجموعی طور پر 10 افراد 15 تاریخ تک پاکستانی معاشی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔

آئی ایم ایف وفد سے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کیلئے وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ مرتب کر لی، 11 وزارتوں اور اتھارٹیز کی طے شدہ اہداف پر مکمل عملدرآمد اور جزوی عملدرآمد رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت انرجی، وزارت پٹرولیم نے اہداف پر عملدرآمد کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزارت منصوبہ بندی، پیپرا نے بھی اہداف مکمل کیے، آئی ایم ایف کیساتھ کامیاب اقتصادی جائزہ مکمل ہونے پر 71 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

Exit mobile version