دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو روزانہ ایک مخصوص وقت پر غنودگی کا احساس ہوتا ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی کوئی ایک ٹھوس وضاحت نہیں کہ روزانہ مخصوص وقت پر غنودگی یا سستی کیوں طاری ہو جاتی ہے، بلکہ متعدد عناصر اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں۔
ہماری جسمانی گھڑی
ماہرین کے مطابق جسمانی گھڑی بنیادی طور پر 24 گھنٹوں کے ایک ٹائمر کے طور پر کام کرتی ہے اور متعدد جسمانی افعال بشمول جاگنے اور سونے کو کنٹرول کرتی ہے۔
ہمارا جسم ایک معمول کو اپنا لیتا ہے اور یہی معمول مخصوص اوقات میں غنودگی طاری ہونے کا باعث بنتا ہے۔
سونے جاگنے کے اوقات
بیشتر افراد کو 2 بجے دوپہر کو غنودگی یا سستی کا سامنا ہوتا ہے جبکہ متعدد افراد کے لیے یہ وقت مختلف ہوتا ہے۔ سونے اور جاگنے کے معمولات کسی مخصوص وقت پر طاری ہونے والی غنودگی میں کردار ادا کرتے ہیں۔
امراض
ذیابیطس، دائمی تھکاوٹ کا باعث بننے والا عارضہ، ہارمونز میں عدم توازن اور تھائی رائیڈ امراض کے باعث بھی مخصوص اوقات پر تھکاوٹ یا غنودگی کا احساس ہوتا ہے۔
روشنی
قدرتی روشنی سے جسمانی گھڑی کو توانائی کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ مصنوعی روشنی یا کسی بھی قسم کی روشنی نہ ہونے سے اس کے افعال متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث مخصوص اوقات میں غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔
کب اور کتنی مقدار میں کھانا کھایا
کیا کھانے کے بعد غنودگی کا احساس ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ غذاؤں سے جسم تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور نیند کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کھانے کا وقت اور آپ کی غذا جسمانی توانائی پر اثرانداز ہوتا ہے۔
توجہ مرکوز نہ کرپانا
موجودہ عہد میں انسانی توجہ بھٹکانے والے عناصر کی تعداد بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں جسم کا قدرتی ردہم متاثر ہوتا ہے۔
فون اور ٹیلی ویژن سے خارج ہونے والی روشنی، مختلف شفٹوں میں کام کرنا اور کیفین کا زیادہ استعمال جیسے عناصر بھی مخصوص اوقات میں غنودگی کا احساس بڑھاتے ہیں۔
