پاکستان کے معروف اداکار عثمان پیرزادہ نے ایک انٹرویو میں اپنے والد سے مار پڑنے کی دلچسپ وجہ بتائی ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے معروف اداکار عثمان پیرزادہ نے اپنی اہلیہ و میزبان ثمینہ پیرزادہ کے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق گفتگو کی۔
شو کے دوران ثمینہ نے عثمان پیرزادہ سے سوال کیا کہ آج سے 43 سال قبل جب میں نے آپ کو دوسری ملاقات میں ہی شادی کی پیشکش کردی تھی تو اُس وقت اُن کا کیا ردّعمل تھا؟
سوال کے جواب میں عثمان پیرزادہ نے کہا کہ میں نے سوچا، ثمینہ کتنی پاگل لڑکی ہے، پھر سوچا کہ یہ لڑکی مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے، چلو کرلیتے ہیں، بعد میں سوچیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثمینہ کی پُراعتمادی، بات کرنے کا انداز اور بلاخوف شادی کی پیشکش کرنا انہیں پسند آیا، جس نے انہیں اُن کی طرف متوجہ کیا اور اسی لیے انہوں نے فوراً شادی کے لیے ہاں کردی۔
انٹرویو کے دوران اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ شیئر کرتے ہوئے عثمان پیرزادہ نے کہا کہ زندگی میں انہیں صرف ایک مرتبہ اپنے والد سے مار پڑی تھی، اُس وقت اُن کی عمر 12 سال تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اُن کی دھوبن چھوٹے بھائیوں کو پنجابی میں کچھ سکھا رہی تھی، اس پر انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ پنجابی بہت گندی زبان ہے، یہ مت سیکھو۔ وہ اُن کے والد نے سن لیا اور انہیں تھپڑ دے مارا۔
اُس دن کے بعد سے انہوں نے کبھی پنجابی کو برا نہیں کہا بلکہ وہ اکثر پنجابی میں نہ صرف بات کرتے ہیں بلکہ لکھتے بھی ہیں۔
اداکار نے کہا کہ اس تھپڑ سے انہوں نے سیکھا کہ صرف اردو زبان ہی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
