پاکستان شوبز انڈسٹری کی مشہور و معروف اداکارہ ماہرہ خان خواتین کے حق میں بول پڑیں۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ پہلی بار کسی بھی لڑکی کا حق اس وقت مارا جاتا ہے جب والدین یہ خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ کاش بیٹی کے بجائے بیٹا پیدا ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے بیٹیوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب لڑکیاں یہ سوچنے لگتی ہیں کہ شاید فلاں چیز پر یا فلاں چیز پر ان کا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کو اگر بیٹی نہ سمجھ کر اور صرف انسان سمجھ کر ہی دیکھا جائے تو بھی ان کے ساتھ اتنی ناانصافی نہیں ہونی چاہئیے۔
ماہرہ خان کے مطابق پاکستان کے ہر طبقے میں یہ باتیں عام ہوتی ہیں کہ بیٹی کے بجائے بیٹا پیدا ہو، ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان کے ہاں چاند سا بیٹا ہو، ہر کسی کو پوتا اور نواسا چاہئیے ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام طبقوں کے گھرانوں میں بیٹیوں کے اوپر بیٹوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس سوچ کا کسی خاص طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غریب ہو، متوسط خاندان ہو یا پھر امیر خاندان ہو ہر جگہ بیٹیوں کے اوپر بیٹوں کو ترجیح دی جاتی ہے، البتہ امیر اور اعلیٰ گھرانوں میں ایسی باتیں انتہائی دبے الفاظ میں کی جاتی ہیں لیکن وہاں بھی ایسی سوچ موجود ہے۔
ماہرہ خان کے مطابق انہیں اس وقت ایسی باتیں نہیں سننی پڑیں جب وہ ماں بننے والی تھیں اور ان کے خاندان میں کسی نے ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی کہ ان کے ہاں پہلا بیٹا ہو۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
