پاکستانی اداکارہ و ٹی وی میزبان مایا خان نے کہا ہے کہ بچوں کو شادی کرنے کا اختیار ہونا چاہئیے، ان پر شادی لادی نہیں جانی چاہئیے۔
حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں مایا خان نے مقبول ڈرامہ ’مائی ری‘ پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہوں نے پہلی بار ماں کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ماں کا کردار ادا کرنے سے قبل وہ پریشان تھیں لیکن ہدایت کار نے انہیں سمجھایا کہ اگر ان کی خود کی شادی 14 سال کی عمر میں ہوتی تو وہ آج ایک نوجوان بیٹی کی ماں ہوتیں، اس لیے انہیں مذکورہ ڈراما کرکے سماج میں پیغام دینا چاہئیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈراما کم عمری کی شادیوں کو فروغ دینے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ ایسی شادیوں کے نقصانات اور نفع دکھانے پر بنایا گیا ہے اور دیکھنے والے کی اپنی مرضی ہے کہ وہ ڈرامے سے کیا نتیجہ نکالتا ہے۔
مایا خان کے مطابق ڈرامے میں جہاں کم عمری کی شادی کے نقصانات بتائے گئے ہیں، وہیں اس کے کچھ فوائد بھی دکھائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی زندگی میں وہ ماں نہیں ہیں اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے انہیں اسکرین پر والدہ کا کردار ادا کرنے میں مشکل ضرور آئی لیکن پھر انہوں نے اپنی بھتیجیوں کو ذہن میں رکھ کر کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ ڈر بھی تھا کہ ماں کا کردار ادا کرنے کے بعد انہیں مسلسل ماں کے کردار دیے جائیں گے۔
مایا خان کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ سماج میں بہت سارے خاندانوں میں کم عمری کی شادیاں ہوتی ہیں، جس طرح ’مائی ری‘ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ دو کم عمر افراد ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں اور شادی کے بعد بھی بہتر انداز سے آگے چلتے ہیں، اسی طرح حقیقی زندگی میں بھی ایک جیسی سوچ رکھنے والے افراد جب چاہیں اپنی زندگی شروع کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرامے کے کم عمر بیوی اور شوہر کی طرح ایک جیسی سوچ رکھنے والے افراد کو پورا حق ہونا چاہئیے کہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہیں شادی کریں، بچوں کو شادی کرنے کا اختیار ہونا چاہئیے، ان پر شادی لادی نہیں جانی چاہئیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسے کم عمر افراد ذمہ داری لے سکتے ہیں تو انہیں شادی کرلینی چاہئیے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
