Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسرت مصباح کے والد کا وہ کون سا فیصلہ تھا جس نے ان کی زندگی بدل دی

مسرت مصباح پاکستان کی بیوٹی انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس شعبہ سے وابستہ ہیں، تاہم اب وہ محض بیوٹیشن ہی نہیں بلکہ ایک معروف سماجی کارکن بن چکی ہیں جو ایک این جی اوسمائیل اگین فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں یہ این جی او تیزاب سے جھلسی ہوئی خواتین کے علاج کے ساتھ ان کو معاشرے میں ایک مقام دلانے کا کام کرتی ہے اور یہی اس کا عزم ہے۔

مسرت مصباح لاکھوں نوجوان خواتین کے لیے ایک تحریک ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو یہ احساس دلایا  کہ آپ کسی بھی مرحلے پر کس طرح دوبارہ زندگی شروع کر سکتی ہیں اور محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے۔

مسرت مصباح دل موہ لینے والی شخصیت کی مالک ہیں جو ایک بار ان سے بات کرتا ہے وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے وہ درد مند دل رکھتی ہیں یہی وجہ ہے انہوں نے معاشرہ کے اس اہم پہلو کو اجاگر کیا اور اس کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔

مسرت مصباح 25 نومبرکوکراچی میں پیدا ہوئی انھوں نےسینٹ جوزف کالج سے گریجویشن کیا، بعد ازاں انہوں نے خواتین کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کے لئے ڈپلیکس کے نام سے ایک بیوٹی پارلر قائم کیا۔ جو دیکھتے دیکھتے پاکستان بھرمیں مشہورہوگیا۔

مسرت مصباح ایک نجی ٹی وی میں بطور مہمان مدعو کی گئی جہاں انہوں نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے کئی رازوں پر سے پردہ اٹھایا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی طلاق بہت چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی اور وہ  طلاق کے بعد اپنے گھر واپس آگئی تھی ان کے ساتھ بچے بھی تھے، اس کے بعد انہوں نے انگلینڈ کے بیوٹی اسکول سے کورس کیا اور اسی پیشے کو بطور کیریئر اپنایا، اس طرح انہوں نے اپنا سیلون اور بیوٹی بزنس کا آغاز کیا۔ مسرت نے انکشاف کیا کہ انہوں نے آج جو کچھ بھی حاصل کیا ہے  وہ سب ان والد کے وژن اور ان کے الفاظ کے مرہون منت ہیں۔

مسرت مصباح نے کہا کہ ان کے والد چھ لڑکیوں کے باپ تھے  لیکن انہوں نے ہم سب کو ایک ساتھ بٹھا کر ایک جملہ کہا تھا کہ وہ اپنی کسی بیٹی کی شادی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر لیتی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں مسرت مصباح کو بیرون ملک بیوٹی اسکول بھیجا اور ان کی واپسی پر سیلون بھی بناکر دیا۔ ان کی اس بات نے ان کا پورا خاندان بدل دیا اور آج مسرت کا سارا خاندان پڑھا لکھا اور متنوع شعبوں سے وابستہ ہے ۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

Exit mobile version