کیلیفورنیا: اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سانس لینے کی مشقیں مراقبہ کے مقابلے میں دماغی صحت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں جوکہ اضطراب کے علاج میں اینٹی ڈپریسنٹس جیسی افادیت رکھتی ہیں۔
سب ہی سانس لیتے ہیں اور کوئی بھی سوچ سمجھ کر یہ عمل نہیں کرتا ہے تاہم صرف 5 منٹ تک ایک خاص طریقہ کار کے مطابق سانس لینا اضطراب کو کم کرنے میں ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہتھیلی سے مس ہوکر تناؤ سے آگاہ کرنے والا انوکھا ٹیٹو
جو لوگ شعوری طور پر سانس لینے اوراسے خارج کرنے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں وہ صحت کے حوالے سے بہترین فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کی نسبت جو مراقبہ کے ذریعے صحت کو بہتر بنانے کے خواشمند ہیں۔
سانس کی مشق اور اضطراب کے درمیان تعلق کو دیکھنے کے لیے کیلیفورنیا میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایک تحقیق کی جس میں ایک ماہ تک 108 شرکاء کو ایک نئے اوربے ترتیب کنٹرول شدہ مطالعے کے لیے شامل کیا گیا۔
جس میں روزانہ پانچ منٹ کی سانس کی تکنیک نے موڈ اور اضطراب کو اسی طرح کے فوائد فراہم کیے جیسے کہ روزانہ ذہن سازی یا مراقبہ کے پانچ منٹ فراہم کرتے ہیں۔
اگر آپ نیند کو بہتر بنانے اور دن کے وقت کے تناؤ کو کم کرنے، شدید کام، زندگی میں سکون اورکسی بیماری سے صحت یاب ہونے کے خواہاں ہیں، تو ایسی صورت میں کسی بیرونی مدد کے بجائے صرف سانس کی مشق آپ کو ان تمام مسائل سے نجات دلا سکتی ہے۔
موجودہ تجربے میں شامل تمام شرکاء نے ہر روز سانس کی مشق کے بعد اپنے موڈ اور دل کی دھڑکن، سانس لینے کی شرح، اور نیند سمیت اہم علامات میں بہتری کی اطلاع دی جبکہ ایسے افراد جنہوں نے ہر روز اپنی سانسوں پر پانچ منٹ تک کام کیا مہینے کے آخر میں سب سے زیادہ تناؤ سے نجات پانے والوں میں شامل تھے جبکہ نہوں نے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت میں روز بروز بہتری کو بھی محسوس کیا۔
اس تحقیق میں شامل شرکاء پرسانس لینے کی تین مختلف تکنیکوں کا تجربہ کیا گیا، اور ان میں سے ہر ایک مشق نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
جن شرکاء کو دو بار سانس اندر لے کر باہر خارج کرنے کی مشق کرنے کو کہا گیا انہوں نے ان شرکاء کی نسبت زیادہ بہتری دکھائی جنہیں باکس سانس لینے کی مشق کرنے کو کہا گیا تھا جس سانس لینے کے بعد ایک وقفہ لے کر سانس کو باہر خارج کرنا تھا۔ جبکہ سائیکلک ہائپر وینٹیلیشن جس میں ایک لمبی سانس لے کر مختصرطور پر سانس کو خارج کیا جاتاتھا۔
واضح طور پر، اس مطالعہ میں سانس لینے کی تکنیکوں اور ذہن سازی کی تکنیکوں میں سے ہر ایک نے فوائد ظاہر کیے ہیں۔ تاہم سانس لینے کی تکنیک گروپوں نے ذہن سازی کے مراقبہ کے گروپ کے مقابلے میں مثبت اثرات میں زیادہ اضافے کی اطلاع دی۔
