سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں پارکنسنز بیماری نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے یہ ایک ایسا تضاد ہے جس نے کئی دہائیوں سے محققین کو حیران کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے یہ قیاس بھی کیا جاتا رہا ہے کہ شاید تمباکو کے دھوئیں میں موجود کوئی مادہ دماغ کو اس اعصابی تنزلی کی بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
چین میں پانچ لاکھ سے زائد بالغ افراد پر کی گئی ایک طویل مدتی تحقیق میں سگریٹ کے جلنے سے پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ اور پارکنسنز کے کم خطرے کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق سے ان کلینیکل ٹرائلز کو بھی تقویت ملتی ہے جن میں کاربن مونو آکسائیڈ کے ایک مخصوص مقدار میں استعمال کو ممکنہ علاج کے طور پر آزمایا جا رہا ہے۔
پارکنسنز ایک ایسی اعصابی بیماری ہے جس میں ہاتھوں میں ریشہ، پٹھوں میں اکڑاؤ اور توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ بیماری دماغ کے ان حصوں میں موجود نیورونز کے تباہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے جو جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بیماری بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے۔
اگرچہ محققین نے بیماری کی ابتدائی تشخیص اور علامات کے ظاہر ہونے میں تاخیر کے حوالے سے خاصی پیش رفت حاصل کی ہے، تاہم اس کا مکمل علاج اب بھی دستیاب نہیں۔ اس بیماری کے پسِ پردہ حیاتیاتی عوامل اور طریقۂ کار کو سمجھنے میں بھی ابھی کئی اہم خلا موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارکنسنز مرض کی ایک عام وجہ جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں
اس حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ کیا سگریٹ نوشی کی طرف جینیاتی یا نفسیاتی رجحان رکھنے والے افراد میں ایسی عادات بھی ہوتی ہیں جو پارکنسنز کے خطرے کو کم کرتی ہیں؟ یا شاید جسم میں نکوٹین کی زیادہ مقدار ایسے حیاتیاتی عمل کو روک دیتی ہے جو عام حالات میں پارکنسنز کے پیدا ہونے کے لیے موزوں ماحول بناتے ہیں؟
یہ شک کرنے کی ایک اچھی وجہ موجود ہے کہ نکوٹین اس معاملے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ دماغ میں موجود نیوروٹرانسمیٹر ایسیٹائل کولین، ڈوپامین کے ساتھ توازن میں کام کرتا ہے۔ ڈوپامین وہ نیوروٹرانسمیٹر ہے جو ان نیورونز کے ذریعے پیدا ہوتا ہے جو پارکنسنز میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نکوٹین انہی ریسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے جو ایسیٹائل کولین کے سگنلز کا جواب دیتے ہیں۔
لیکن نکوٹین ہی واحد حیاتیاتی طور پر فعال کیمیکل نہیں جسے سگریٹ نوش افراد بڑی مقدار میں اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔
کاربن مونو آکسائیڈ بھی ایک ایسا زہریلا مادہ ہے جس کے اثرات بیک وقت خطرناک اور، مخصوص حالات میں، ممکنہ طور پر علاجی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں یہ خون کے سرخ خلیوں پر آکسیجن کی جگہ لے کر جسم کے ٹشوز کو آکسیجن سے محروم کر سکتا ہے اور انسان کا دم گھٹ سکتا ہے۔ تاہم ہمارا جسم خود بھی اس سادہ کیمیائی مرکب کی معمولی مقدار پیدا کرتا ہے، جس کا تعلق مدافعتی ردِعمل کو منظم کرنے اور خلیوں کو آکسیڈیٹو اسٹریس سے بچانے سے ہے۔
کاربن مونو آکسائیڈ میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور دماغ میں یہ خلیوں پر پڑنے والے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے اس طرح جن افراد کے جسم میں کاربن مونو آکسائیڈ کی اندرونی سطح زیادہ ہوتی ہے، وہ سوزش کے عمل سے بہتر طور پر نمٹنے اور دماغ کی صحت کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے قابل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سگریٹ پینے والے افراد میں شاید اس مرض میں مبتلا ہونے کے مکان کم ہیں۔
تحقیق کے مصنفین نے ایک رجسٹرڈ کلینیکل ٹرائل کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں پارکنسنز کے مریضوں میں کم مقدار والی کاربن مونو آکسائیڈ کے استعمال کی حفاظت جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تحقیق اس امکان کو اجاگر کرتی ہے کہ مناسب مقدار اور طبی نگرانی میں کاربن مونو آکسائیڈ مستقبل میں علاج کی ایک نئی راہ فراہم کر سکتی ہے۔
اہم بات: اس تحقیق کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ سگریٹ میں کاربن مونو آکسائیڈ کے ساتھ بے شمار دوسرے زہریلے مادے بھی ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کینسر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت متعدد سنگین مسائل کا خطرہ بہت بڑھاتی ہے۔ یہاں زیرِ تحقیق چیز کاربن مونو آکسائیڈ کی انتہائی کم اور طبی طور پر کنٹرول شدہ مقدار ہے، نہ کہ سگریٹ نوشی۔
