چین میں سائنسدانوں نے خون چوسنے والے کیڑے ’’ٹِک‘‘ کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک نیا وائرس دریافت کیا ہے جو فلو جیسی بیماری کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد میں بخار، شدید تھکن اور معدے و آنتوں کی تکالیف سمیت مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئے وائرس کو ایشیا میں لمبے سینگ والے ٹِک سے منسلک وائرس کا نام دیا گیا ہے جب کہ اس کی دریافت چین کے مختلف علاقوں میں خون چوسنے والے کیڑے کے کاٹے جانے والے مریضوں کے طبی نمونوں کی جانچ کے دوران ہوئی۔
چینی محققین نے اس وائرس کی تلاش اس تحقیقات کے دوران کی کہ ایسے مریض جن میں ٹِک سے پھیلنے والے خطرناک بخار کی علامات موجود تھیں تو ان میں سے تقریباً 30 فیصد افراد کے ٹیسٹ منفی کیوں آتے ہیں۔
تحقیق کے دوران 3 ہزار 163 مریضوں کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 10.4 فیصد افراد میں نئے وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ ایسے مریض جن میں پہلے سے موجود خطرناک بیماری کا ٹیسٹ منفی آیا تھا تو ان میں 15.1 فیصد افراد نئے وائرس سے متاثر پائے گئے۔
تحقیق کے مطابق نئے وائرس سے متاثرہ افراد میں سب سے عام علامت شدید تھکن تھی جو 84 فیصد مریضوں میں دیکھی گئی جب کہ 80 فیصد افراد کو معدے اور آنتوں سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ 38 فیصد مریضوں میں خون کے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہوئی جب کہ 36 فیصد افراد میں جگر یا دیگر جسمانی اعضا کو نقصان پہنچنے یا سوزش کی نشاندہی کرنے والے خامروں کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق صرف نئے وائرس سے متاثر ہونے والے تمام مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے تاہم نئے وائرس اور پہلے سے موجود خطرناک بیماری کے بیک وقت شکار ہونے والے افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ دونوں وائرس سے بیک وقت متاثرہ مریضوں میں سانس کی تکالیف اور گردوں کے متاثر ہونے کی شرح زیادہ تھی جب کہ ایسے 38 مریضوں میں سے 7 افراد جانبر نہ ہوسکے۔
سائنسدانوں نے چین کے 15 صوبوں سے حاصل کیے گئے تقریباً 47 ہزار 428 ٹِک کے نمونوں کا بھی جائزہ لیا جن میں 1.3 فیصد میں نئے وائرس کی موجودگی پائی گئی۔
محققین کہتے ہیں کہ یہ وائرس خاص طور پر ایشیا میں لمبے سینگ والے ٹِک میں زیادہ پایا گیا جب کہ تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ ٹِک چوہوں میں وائرس منتقل کرسکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے وائرس اور پہلے سے موجود ٹِک سے پھیلنے والی بیماری ایک ہی علاقوں اور ایک ہی قسم کے ٹِک میں موجود ہیں، اس لیے متاثرہ مریضوں کی درست تشخیص کے لیے دونوں بیماریوں میں فرق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
