آگاہی کے باوجود ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اس مرض میں انسولین کی کمی خون میں چینی سطح کو بڑھا دیتی ہے جس سے صحت کے کئی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔
یوں تو اس کی کئی اقسام ہیں لیکن زیادہ لوگ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اس مرض میں جسم میں موجود لبلبہ نسولین کی کم مقدار پیدا کرتا ہے اور اس طرح غذا میں موجود چینی گلوکوز میں تبدیل ہوئے بغیر خون میں شامل ہوجاتی ہے اس طرح خون میں چینی کے سطح بڑھنے لگتی ہے جو کئی امراض کا سبب بنتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس مرض میں ماہرین بہت سی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں تاہم یہاں چند ایسی غذاؤں کا ذکر کیاجارہا ہے جو قدرتی طور پر خون میں چینی کی سطح کو توازن میں رکھنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
جئی
سویڈن کی ایک جامعہ کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جئی میں موجود اہم ترین غذائی فائبرکا مرکب آپ کی بھوک اور خون میں چینی کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
کیلا
آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف ڈبلین کی ایک تحقیق کے مطابق مزاحمت سے بھرپور اسٹارچ والی غذائیں جیسے کیلا، آلو اور پھلیاں خون میں چینی کی سطح کو منظم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
گریاں
خشک میوہ جات میں غیر حل پذیر چکنائی، پروٹین، وٹامنزاور منرلز کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہیں، جو کولیسٹرول اورسوزش کو کم کرنے اور انسولین کی مزاحمت کو بہتر بناتی ہیں۔
کریلا
کریلے میں انسولین سے ملتا جلتا ایک مرکب پولی پیپٹائیڈ پی جسے پی انسولیں بھی کہاجاتا ہے جو ذیابیطس کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میتھی دانہ
ماہرین خون میں چینی کی سطح کو توازن میں رکھنے کے لیے میتھی دانہ، ہلدی اور آملہ کے پاؤڈر کا ایک چائے کا چمچ دن میں تین بار نیم گرم پانی کے ساتھ لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پروٹین سے بھرپور غذائیں
ماہر غذائیت کے مطابق پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈے، گوشت، مچھلی اور مرغی، دالیں اور پنیربلڈ شوگرکی سطح کو توازن میں رکھنے میں مددفراہم کرتے ہیں۔
آملہ
آملہ جسے گوزبیری بھی کہاجاتا ہے خون میں چینی کی سطح کو توازن میں رکھنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔
