Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈپریشن سے بچنا چاہتے ہیں تو ہاضمہ بہتر بنائیں

آپ کی مجموعی صحت کا دارومدار بہتر نظام ہاضمہ پرہے اگر یہ نظام مؤثر اندازاپنا کام انجام نہیں دیتا توآپ جسمانی بیماریوں کے ساتھ ذہنی عارضے یعنی ڈپریشن میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں، یہ بات ایک تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اریٹیبل باؤل سینڈروم جسے (آئی بی ایس) کہا جاتا ہے اور دماغی عوارض جیسے بے چینی اور ڈپریشن کے درمیان ایک ربط کا انکشاف ہواہے۔

اریٹیبل باؤل سینڈروم جسے (آئی بی ایس) کہا جاتا ہے نظام ہاضمہ کا ایک ایسا مرض ہے جو آنتوں کے افعال متاثر ہونے کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ آئی بی ایس معدے اور آنتوں کا ایک دائمی عارضہ ہے جو دنیا کی تقریباً  15 فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے۔

اس مرض میں مریض پیٹ میں تکلیف، پیٹ پھولنے، گیس اور ہیضے جیسے کیفیات کا سامنا کرتا ہے جبکہ قبض کی شکایت بھی ہوسکتی ہے جو طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں، تاہم طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں اور گھریلو ٹوٹکے اس مرض سے نجات میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق آئی بی ایس کے مریضوں میں ان کی مجموعی صحت اور معیار زندگی کو بہتر بنانے اور نفسیاتی امراض کا جائزہ لینے اور ان کا علاج کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتی ہے۔

محققین نے آئی بی ایس اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو جاننے کے لیے تین سال کی مدت کے دوران 4000 امریکی اسپتالوں سے 1.2 ملین سے زیادہ آئی بی ایس کے  مریضوں کے اسپتالوں میں داخل ہونے کا جائزہ لیا،

جس کے مطابق ان مریضوں میں 38 فیصد کو پریشانی اور 27 فیصد سے زیادہ میں ڈپریشن کو نوٹ کیاگیا۔

عام افراد کی نسبت آئی بی ایس مریضوں میں بے چینی، ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈر، خودکشی کے خیال ، اور غذائی خرابی سمیت نفسیاتی مسائل کا پھیلاؤ نمایاں طور پر زیادہ تھا۔

یونیورسٹی آف میسوری میں کلینکل میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر، مرکزی محقق  زاہد اعجاز تارڑ کیا کہنا ہے کہ ایک عرصے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ دماغ اور آنتوں کے درمیان تعلق دوطرفہ ہے  جیسے کہ آئی بی ایس کی علامات اضطراب اور افسردگی کا سبب بنتی ہے اور دوسری طرف، نفسیاتی عوامل آئی بی ایس کی علامات کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے طبی پیشہ ور افراد کو ان دونوں عوامل  کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی بی ایس کے مریضوں کا اگر علاج نہ کیا جائے تو ان میں نفسیاتی عارضے جنم لینے لگتے ہیں جس سے ان کے علاج کا معاشی بوجھ بڑھ سکتاہے۔

آئی بی ایس میں میسنٹری جھلی جو آنتوں کو ایک ساتھ رکھتی ہے جسم میں عصبی خلیوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ جب وہ اعصاب تحریک پیدا کرنے لگتے ہیں، تواس سے  آنتوں کی حرکات متاثر ہوتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں آئی بی ایس کی علامات ظاہرہونے لگتی ہیں۔ غیر صحت مند طرز زندگی بھی اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ مطالعہ آئرش جرنل آف میڈیکل سائنس میں شائع ہوا ہے ۔

Exit mobile version