کیا آپ جانتے ہیں کہ کہنی ٹکرانے سے بہت زیادہ تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔
جس جگہ یہ جھٹکا لگتا ہے اسے انگلش میں فنی بون کہا جاتا ہے اور جو جھٹکا ہمیں لگتا ہے وہ ہڈی نہیں بلکہ اعصاب ٹکرانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ان اعصاب کو النر نرو کہا جاتا ہے جو ریڑھ کی ہڈی سے شروع ہوکر ہاتھوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
تو یہ جھٹکا بہت زیادہ تکلیف دہ کیوں ہوتا ہے؟
یہ اعصاب ہماری کہنی میں humerus نامی جگہ کے پیچھے سے گزرتے ہیں اور طبی زبان میں اس کے لیے کیوٹیبل ٹنل کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اس جگہ یہ اعصاب ہڈی اور جِلد کے درمیان سینڈوچ بنے ہوتے ہیں اور وہاں انہیں تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
جب کہنی مخصوص زاویے سے ٹکراتی ہے تو اعصاب کیوٹیبل ٹنل میں دب جاتے ہیں اور ایسا ہونے پر بجلی کے جھٹکے جیسا احساس ہوتا ہے۔
اس سے بازو سن ہونے اور سنسناہٹ جیسے احساسات ہوتے ہیں اور چونکہ ایسا ہڈی کی بجائے النر نرو کے باعث ہوتا ہے تو یہ اثر پورے بازو میں محسوس ہوتا ہے۔
یہ جسم کا واحد بڑا حصہ ہے جہاں اعصاب جِلد کے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اعصابی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔
