Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈاکٹر کے پاس موجود یہ آلہ کیسے کام کرتا ہے؟

ڈاکٹر کے پاس ایک آلہ ہوتا ہے جسے سٹیتھوسکوپ کہا جاتا ہے، اس آلے سے ڈاکٹر ہماری دھڑکنیں سنتا ہے۔

لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری دھڑکنوں کی آواز پلاسٹک کے تاروں والے اس آلے سے ڈاکٹر کے کان تک کیسے پہنچتی ہے؟

اگر نہیں تو آج ہم آپ کو اس کے بارے میں بتائیں گے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔

سٹیتھوسکوپ کیسے کام کرتا ہے؟

سٹیتھوسکوپ کا وہ حصہ جو مریض کے جسم سے لگایا جاتا ہے وہ اسٹیل کا بنا ہوتا ہے۔ اس گول کے حصے کے اوپر پلاسٹک کی پتلی سے تہہ موجود ہوتی ہے اسے ڈایافرام کہتے ہیں۔

 یہ ڈایافرام جسم کے اندر کی آوازوں کو محسوس کر کے ہلتا ہے۔ یہی آواز کھوکھلے پلاسٹک کے تاروں (پی وی سی پائپس) اور اسٹیل کے ٹرنک سے گزر کر ائیر پیس تک پہنچتی ہے جس سے ڈاکٹر مریض کے معدے، پھیپھڑے، دل کی آواز اور خون کی روانی چیک کرتے ہیں۔

یہ سٹیتھوسکوپ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لئے بھی بلڈ پریشر کی مشین کے ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔

دنیا کا پہلا سٹیتھوسکوپ

سٹیتھوسکوپ ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے 1816 میں ایجاد کیا۔ اس آلے کی ایجاد کا مقصد مریض کے جسم کے اندرونی حصوں میں پیدا ہونے والی آواز کو سننا اور ان کا مشاہدہ کرنا تھا کہ آیا وہ معمول پر ہیں یا نہیں۔ دنیا کا پہلا سٹیتھوسکوپ لکڑی سے بنایا گیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

Exit mobile version