کیا آپ کے ہاتھ اور کلائی میں درد ہوتا ہے؟ اور آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔
ہاتھ اور کلائی میں درد ہونا، اس کے ساتھ ساتھ سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے یا سن ہونے جیسے احساسات کا ہونا ہاتھوں کے عام عارضے کی علامات ہیں جسے کارپل ٹنل سینڈروم کہا جاتا ہے۔
اگر آپ کی ملازمت یا کسی پسندیدہ مشغلے کے دوران ہاتھوں اور کلائیوں پر دباؤ بڑھے، تو اس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کارپل ٹنل سینڈروم کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب ایک عصب میڈین نرو پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یہ عصب انگوٹھے اور انگلیوں (چھوٹی انگلی کو نکال کر) کو احساس فراہم کرتا ہے۔
یہ عصب ایک تنگ جگہ سے گزرتا ہے جسے کارپل ٹنل کہا جاتا ہے اور اگر کسی بھی وجہ سے کلائی سوج جاتی ہے تو یہ راستہ مزید سکڑ جاتا ہے جس سے یہ عصب متاثر ہوتا ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند آسان طریقوں سے آپ اس مسئلے سے بچ سکتے ہیں یا علامات کی شدت کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔
نرمی سے کام کریں
اکثر روزمرہ کے معمولات کے دوران ہم ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی چیز کو نرمی سے پکڑنے کی بجائے زیادہ سختی سے پکڑتے ہیں یا اپنے کمپیوٹر کی بورڈ کے بٹن زور سے کلک کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہاتھوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور کارپل ٹنل سینڈروم کا امکان بڑھتا ہے۔
ہاتھوں کو گرم رکھیں
جب ہاتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں تو تکلیف اور اکڑنے کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو ہاتھوں کو گرم رکھنے اس مسئلے سے بچنے میں مدد ملتی ہے یا علامات کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
وقفہ کریں
اگر ہاتھوں یا کلائی میں تکلیف ہے تو اپنے کام کو چھوڑ کر ہاتھوں کو کھولیں یا بند کریں۔ ہر گھنٹے میں چند منٹ کا وقفہ کرنے سے اس مسئلے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ہاتھوں کی ورزش
اگر ہاتھوں میں تکلیف ہو رہی ہے یا کام سے وقفہ کرکے ہاتھوں کو آرام دے رہے ہیں تو ایک آسان ورزش کریں۔ مٹھی بنائیں اور پھر انگلیوں کو سیدھا کریں، یہ عمل 5 سے 10 بار دہرائیں۔
ہاتھ کو سیدھا رکھیں
جب آپ کلائی یا ہاتھ کو سیدھا رکھتے ہیں تو اس سے میڈین نرو پر دباؤ کم پڑتا ہے اور کارپل ٹنل سینڈروم کا خطرہ کم ہوتا ہے یا اس کی علامات کی شدت میں اضافہ نہیں ہوتا۔
ہاتھ بدل کر کام کریں
ایک کام کو مسلسل ایک ہاتھ اور کلائی سے ایک ہی پوزیشن میں کرنے سے گریز کریں، اگر ممکن ہو تو دائیں ہاتھ والا کام بائیں ہاتھ سے کرنے کی کوشش کریں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
