پوری دنیا میں ڈپریشن حیرت انگیز حد تک ایک عام بیماری بن چکا ہے۔
ڈپریشن ایک موڈ سے متعلقہ بیماری ہے اور یہ روز مرہ کے کام مثلا کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور معاشرتی رویوں کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔
ڈپریشن کئی اقسام کا ہو سکتا ہے، کسی بھی قسم کے ڈپریشن میں پیدا ہونے والی ناامیدی کی شدید لہر انسان کو تباہ کن حد تک متاثر کرتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پرحاوی کرلیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو بار بار سوچتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
لیکن اس کے علاوہ کچھ علامات بھی ہیں جو ڈپریشن کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
شدید مایوسی
جب مایوسی کئی ہفتوں تک برقرار رہے اور دیگر افراد آپ کے مزاج میں آنے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کریں، تو یہ ڈپریشن کی علامت ہو سکتا ہے۔
پسندیدہ مشاغل میں دلچسپی ختم ہو جانا
ڈپریشن کے شکار افراد کی ان مشاغل میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے جو انہیں بہت زیادہ پسند ہوتے ہیں۔
اگر آپ کو سوشل میڈیا ماضی کی طرح دلچسپ محسوس نہیں ہو رہا یا پسندیدہ کھیل بیزار کن محسوس ہونے لگا ہے تو یہ ڈپریشن کی علامت ہو سکتا ہے۔
وزن میں تبدیلی
ڈپریشن کے شکار کچھ مریضوں کو کم بھوک لگتی ہے جبکہ کچھ بہت زیادہ کھانے لگتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے۔
بہت زیادہ یا کم نیند
نیند جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
بے خوابی ڈپریشن کی ایک عام علامت ہے اور 80 فیصد مریضوں کو اس کا سامنا ہوتا ہے۔
مگر کئی بار مریضوں کے لیے جاگنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ نیند بھی ڈپریشن کی ہی ایک نشانی ہے۔
بے چینی کا احساس
زیادہ تر مریضوں کو ڈپریشن اور انزائٹی ایک ساتھ سامنا ہوتا ہے، دونوں کی علامات بھی لگ بھگ ایک جیسی ہیں جیسے توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات، نیند کے مسائل اور نقاہت وغیرہ۔
انزائٹی سے گھبراہٹ یا ذہنی بے چینی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر معمول سے زیادہ گھبراہٹ یا ذہنی بے چینی کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ڈپریشن یا انزائٹی کا نتیجہ ہو سکتا ہے بلکہ کئی کیسز میں تو دونوں ہی کی تشخیص ہو جاتی ہے۔
جسمانی توانائی میں کمی
جسمانی توانائی میں کمی کی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جیسے بے خوابی۔
تاہم اگر کسی قسم کی جسمانی علامات کے بغیر بھی نقاہت کا تسلسل برقرار رہے تو یہ ڈپریشن کی جانب بڑھنے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات
توجہ مرکوز کرنے میں مشکل محسوس کرنا بھی ڈپریشن کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔
ڈپریشن سے چھوٹے چھوٹے کام جیسے دانت برش کرنا اور برتن دھونا بہت مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔
خودکشی کے خیالات
ڈپریشن کے شکار افراد خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا خطرہ بڑھتا ہے۔
