آج ہم آپکو بتائیں گے کہ سانپ کا کاٹنا جان لیوا کیوں ثابت ہوتا ہے۔
سانپوں میں مختلف نسلیں پائی جاتی ہیں جن میں سے بعض سانپ بہت زیادہ زہریلے بھی ہوتے ہیں۔
جیسے ہی سانپ کسی بھی شخص کو کاٹتا ہے تو وہ اپنا زہر خون میں منتقل کردیتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے انسان کے خون کو اتنا گاڑھا کردیتا ہے کہ خون جمتے جمتے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
خون کے گاڑھے ہوجانے کی وجہ سے رگوں میں خون کی روانگی متاثر ہوتی ہے جس کے سبب دل، پھیپھڑے سمیت دیگر اندرونی اعضا کام کرنا بند کردیتے ہیں اور یوں انسان کی بہت کم وقت میں موت ہوجاتی ہے۔
سانپ کے زہر کا توڑ کیسے ممکن؟
بہت سے ممالک میں سانپ کے زہر کا توڑ اسی کے زہر سے بنایا گیا ہے جسے اینٹی وینم کہا جاتا ہے، اینٹی وینم کو بہت کم تعداد میں تیار کیا گیا ہے جو ہر کسی کی دسترس میں نہیں۔