کیا آپکو معلوم ہے کہ چاکلیٹ سے بنی میٹھی غذائیں صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دکانوں سے خریدی جانے والی چاکلیٹ سے بنی میٹھی غذائیں ایسے خطرناک کیمیکل رکھتی ہیں جو ہمارے ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ ویفل اور کیک جیسی غذائیں بھاری مقدار میں کارسِینوجین رکھتی ہیں جو ان اشیاء کے بنتے وقت ان میں شامل ہوئی ہوتی ہیں، یہ مرکبات تب وجود میں آتے ہیں جب کوکوا بینز کو غذا میں چاکلیٹ کا ذائقہ لانے کے لیے بھونا جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ ایلفا،بِیٹا-اَن سیچوریٹڈ کاربونائلز نامی مالیکیولز کوکوا بینز کے بھننے اور کوکوا بٹر شامل کیے جانے کے بعد وجود میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل عموماً وافر مقدار میں بنائے جانے والی غذاؤں میں ہوتا ہے کیونکہ کمپنیاں ان غذاؤں کو بنانے کے لیے بلند درجہ حرارت کا استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان اشیاء میں مزید ذائقے اور خوشبوئیں شامل ہوجاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان غذاؤں کی کھپت سے کاربونائلز لوگوں کے معدوں میں خامروں اور پروٹینز سے ملنے کے بعد ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے خلیوں کی تقسیم کی شرح تیز ہو سکتی ہے اور یہ عمل عام خلیوں کو کینسر زدہ خلیوں میں بدل سکتا ہے۔
