چینی سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسیقی صرف ذہنی دباؤ سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دماغ کے ان نظاموں کو بھی متاثر کرتی ہے جو دباؤ کے بعد جسم اور ذہن کو معمول پر لانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے شعبہ نفسیات کے ماہرین کی جانب سے کی گئی یہ تحقیق ایک معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے جس میں محققین نے موسیقی اور ذہنی دباؤ کے درمیان تعلق جانچنے کے لیے 120 صحت مند نوجوانوں پر دو تجربات کیے۔
پہلے تجربے میں شرکا کو ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے حساب کے کام سے پہلے یا بعد میں پرسکون موسیقی اور قدرتی پانی کی آوازیں سنائی گئیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ دباؤ پیدا ہونے سے پہلے موسیقی سننے سے فوری طور پر دباؤ کی کیفیت میں واضح کمی نہیں آئی تاہم دباؤ کے مرحلے کے بعد موسیقی سننے والے افراد کی بحالی زیادہ بہتر رہی۔
موسیقی سننے والے شرکا نے مثبت مزاج میں زیادہ بہتری محسوس کی جب کہ جسمانی پیمانوں میں بھی دباؤ سے نسبتاً تیزی سے بحالی دیکھی گئی۔
دوسرے تجربے میں شرکا کے دماغ کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دباؤ سے بحالی کے دوران موسیقی دماغ پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ موسیقی سننے کے دوران دماغ کے آواز پر کارروائی کرنے والے حصے اور جسمانی کیفیت کی نگرانی، اہم اشاروں کی شناخت اور جسمانی بیداری کو منظم کرنے والے حصوں کے درمیان رابطے میں تبدیلی آئی۔
محققین کے مطابق بحالی کے ابتدائی مرحلے میں آواز سے متعلق دماغی حصے اور جسمانی کیفیت کی نگرانی کرنے والے حصے کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا جب کہ بعد میں دماغ کے دیگر متعلقہ حصوں کے درمیان رابطے میں اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ موسیقی میں تناؤ اور نرمی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ دماغ کے ان حصوں کے درمیان رابطہ بھی تبدیل ہوتا رہا جس کا تعلق مزاج، دل کی دھڑکن اور جسم کے خودکار نظام کے توازن میں بہتری سے تھا۔
ماہرین کے مطابق موسیقی میں توقع، تناؤ اور پھر سکون کا ایک منظم سلسلہ پایا جاتا ہے جسے دماغ دباؤ کو منظم کرنے والے نظام کو دوبارہ متوازن کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج روزمرہ زندگی اور طبی نگہداشت میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے موسیقی پر مبنی طریقہ کار تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔




















