طب کی تاریخ میں پہلی بار ریڑھ کی ہڈی کی پیوندکاری کا تجربہ کیا گیا ہے تاہم اس میں کتنی کامیابی ملے گی یہ کہنا قبل از وقت ہے۔
ریڑھ کی ہڈی جسم کی ایک اہم ترین ہڈی ہونے کے ساتھ اعصاب کا ایک مربوط نظام رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی پیوندکاری ابھی تک نہ صرف عمل میں لائے گئی بلکہ ناممکن سمجھی جاتی رہی ہے۔
ریڑھ کی ہڈی کی یہ سرجری چین کی گوانگ شی یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن کے سیکنڈ افیلی ایٹڈ ہسپتال سے وابستہ سرجن ڈاکٹر ژیاوپنگ رین نے گزشتہ ہفتے ماسکو کے سکلِیفوسوفسکی انسٹی ٹیوٹ برائے ایمرجنسی میڈیسن میں کی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پہلی بار رحم کی کامیاب پیوندکاری
چوٹ زدہ ریڑھ کی ہڈی کی جگہ کسی صحت مند عطیہ دہندہ کی ریڑھ کی ہڈی کا ٹشو لگانا فالج کا ایک سیدھا سادہ حل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان ٹشوز کو اس قابل بنانا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بامعنی عصبی پیغامات کا تبادلہ کر سکیں بالکل الگ معاملہ ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس پر محققین کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔
اس سرجری میں ایک ایسے شخص کی ریڑھ کی ہڈی میں دماغی طور پر مردہ عطیہ دہندہ کی ریڑھ کی ہڈی کا ایک حصہ پیوند کیا گیا جسے تین برس قبل اسی ہڈی میں چوٹ لگی تھی۔
اس سرجری کے دوران خراب ٹشو نکالا اور پھر مائیکروسرجری اور پولی ایتھائلین گلائکول نامی مادے کی مدد سے عطیہ دہندہ کی ریڑھ کی ہڈی کے حصے کو مریض کی ریڑھ کی ہڈی سے جوڑدیا گیا، یہ مادہ خلیوں کی جھلیوں کو آپس میں ملانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ طبی سائنس میں ایک غیر معمولی سنگِ میل ہوگا۔ تاہم یہ طریقۂ علاج مریض کو دوبارہ کوئی جسمانی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گا یا نہیں اور متاثرہ شخص دوبارہ نارمل زندگی گزار سکے گا اس سوال کا جواب ابھی موجود نہیں۔
