Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عدالت عظمیٰ نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈز تک رسائی دے دی

سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس میں آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمزعملدرآمد کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالتِ عظمٰی نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بنک کیساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے۔ دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے۔

حکام اسٹیٹ بنک نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی، ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب سے زائد رقم موجود ہے۔ جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے۔ نیشنل بنک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن بولے سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں دس ارب تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ عوام کو بتائیں گے کہ ان کے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی۔ ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر نہیں خرچ ہوگا۔

آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ تک رسائی دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کا کوئی نمائندہ پارلیمنٹ گیا اور کہا کہ ہمیں ڈیم فنڈ تک رسائی نہیں ہے، آپ کو سپریم کورٹ ڈیم تک مکمل رسائی حاصل ہے۔

آڈیٹرجنرل کے نمائندہ سے چیف جسٹس پاکستان نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرح آپ بھی آئینی ادارہ ہیں۔

عدالت نے ڈیم کی تعمیرکے لیے پی ایس ڈی پی کے 2.4 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں۔

 سیکریٹری واٹر نے کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے دوران سماعت بتایا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے،  سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ سٹیشنز پر90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے، کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب کی بجلی دی بل صرف 25 ارب جمع ہوا

سیکریٹری پاورڈویژن  نے کہا کہ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، بجلی چوری میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،  بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی پورے دل کیساتھ نہیں کی جاتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکولر ڈیٹ پر تشویش ہے۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکولر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے، بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔

وکیل واپڈا نے بتایا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب ادا کرنے ہیں، ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں۔

سیکریٹری واٹر نے کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو۔

وکیل واپڈا کا کہنا تھا کہ سیلاب اورسیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا، سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی۔

وکیل واپڈا نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے۔ ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے۔ ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سےاخراجات کم ہوں۔ اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ چند ماہ کے بعد دوبارہ ملاقات ہوگی اور سماعت ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version