Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سینئر وکیل عبدالطیف آفریدی پشاور میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق

سابق صدرسپریم کورٹ بارلطیف آفریدی پشاور میں فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق پشاورمیں سابق صدرسپریم کورٹ بارلطیف آفریدی پرفائرنگ کا واقعہ ہائی کورٹ بارروم میں پیش آیا۔ لطیف آفریدی کوزخمی حالت میں اسپتال منتقل کیاگیاتھا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتےہوئےلطیف آفریدی اسپتال میں دم توڑگئے۔

پشاورپولیس کے مطابق لطیف آفریدی کو6 گولیاں لگیں، لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے سابق صدرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدالطیف آفریدی کے فائرنگ سے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سابق صدرسپریم کورٹ بار عبدالطیف آفریدی پرفائرنگ کرنےوالاان کاقریبی رشتہ داروکیل ہے۔ فائرنگ کرنے والے ملزم عدنان ولد سمیع اللہ کو پولیس نے گرفتارکرلیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنزکا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر زاویے یہ تفتیش ہوگی۔ کسی سے کوئی کوتاہی ہوئی اس کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

وزیراعظم کا نوٹس

واقعے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے قانون دان لطیف آفریدی کے قتل پر نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم عبدالطیف آفریدی کے قتل پرافسوس کرتے ہوئے اُن کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہارکرتے یوئے کہا کہ نامور قانون دان اورسابق صدر سپریم کورٹ بارعبدالطیف آفریدی کے پشاور میں بیہمانہ قتل پر دلی دکھ اور رنج ہوا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ان کی بلندیِ درجات اورلواحقین کیلئے صبرِ جمیل کی دعا ہے، خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ صوبائی حکومت اس کی بہتری کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے۔

لطیف لالا کون تھے؟

عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ 14 نومبر 1943 کو پیدا ہوئے تھے۔ عبداللطیف آفریدی ایڈوکیٹ 21-2020 کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ پاکستان بار کونسل کے نائب صدراور پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر بھی رہے۔

عبدالطیف آفریدی 1986 تا 1989 عوامی نیشنل پارٹی کے پہلے صوبائی صدر بنے۔ 07- 2005 تک اے این پی کے جنرل سیکرٹری رہے اور1999-1997 کے دوران قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

عبدالطیف آفریدی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینئررہ نما تھے۔ عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ کو وکلا اور رفقا لطیف لالا کہہ کر پکارتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version