سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی مظالم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
‘عمران خان نے کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا’
فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان نے دلیری سےکشمیرکے سفیر کا کردار ادا کیا اور عمران خان نے کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا۔
‘کشمیریوں کےحق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے’
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر زندگی تنگ کی ہوئی ہے، دنیا کو اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنا چاہئے، کشمیریوں کےحق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔
سابق وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا، مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا،آٹا160 روپےکلو میں بھی دستیاب نہیں۔
‘ہمیں جیلوں میں ڈال کے معیشت ٹھیک ہوتی ہے تو کرکے دکھائیں’
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہبازشریف کہتا تھا کپڑے بیچ دوں گا آج کچھ نہیں مل رہا، ہمیں جیلوں میں ڈال کے معیشت ٹھیک ہوتی ہے تو کرکے دکھائیں۔
سابق وزیر مملکت فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی ڈھانچے کو تباہ کردیا گیا، آئین پر چلیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کریں۔
یہ بھی پڑھیں: 5 فروری، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن
واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔
پاکستان میں سب سے پہلے کشمیر سے یکجہتی کا دن 5 فروری کو 1991 سے ہر سال منایا جاتا ہے تاہم بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باعث اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم اور صدر مملکت کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام
اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے طول و عرض میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے پلوں پر انسانی حقوق کی زنجیریں بھی بنائی گئیں۔
اس کے علاوہ کوہالہ پل میں تقریب میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان حکومت کے نمائندے شریک ہوئے جبکہ اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے بھی پارلیمنٹ ہاؤس تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی۔
تاہم کم لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی اور کس شخصیت نے سب سے پہلے ریاستی سطح پر اس دن کو منانے کا مطالبہ پیش کیا۔
