Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عدالت کا شریک چیئرمین بول نیوز شعیب شیخ کو اسپتال لے جانے کا حکم

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شریک چیئرمین بول نیوز شعیب احمد شیخ کو اسپتال لے جانے کا حکم دے دیا، جس کے بعد انھیں پمز اسپتال پہنچا دیا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق عدالت نے کوچیئرمین بول نیوزشعیب احمد شیخ کی گرفتاری سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تمام افراد کوشامل تفتیش کرنے اورشریک چیئرمین بول نیوز شعیب احمد شیخ کو15 مار چ کو دن 12 بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ پرائیوٹ وکیل اسپیشل پراسیکیوٹر کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا۔

شعیب احمد شیخ کو اسپتال لے جانے کا حکم

اسپتال منتقلی کی درخواست پرعدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شریک چیئرمین بول نیٹ ورک شعیب احمد شیخ کواسپتال لے جانے کا حکم دے دیا جس کے بعد انھیں پمزپہنچا دیا گیا۔

اس سے قبل آج اسلام آباد کی مقامی عدالت میں بول نیوزکے کو چیئرمین شعیب احمد شیخ کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی سے سوال کیا کہ شعیب شیخ کو کس وقت پیش کریں گے؟ جس پرایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ بس سر، پہنچنے والے ہیں۔

اس کے بعد کوچیئرمین بول نیٹ ورک شعیب احمد شیخ کو کمرہ عدالت میں پہنچایا گیا۔ تفتیشی کو روسٹرم پر طلب کیا گیا اوردلائل کا اغازہوا۔

شعیب احمد شیخ کی گفتگو

سماعت کے دوران شریک چیئرمین بول نیوز شعیب احمد شیخ نے بتایا کہ جج نے 3 جگہ الزام پر انکار کیا، 5 سال کی ٹرانزیکشن دیکھی گئی، کچھ نہ ملا، اب بول کی وجہ سے مجھے نشانہ بنایا گیا، مجھے عمران خان کی کوریج سے روکا گیا، مجھے عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہونے کی سزا دی جارہی ہے، مجھ پر تشدد کرکے ریکارڈ بنایا جارہا ہے۔

شعیب احمد شیخ نے کہا کہ شاید کچھ اینکرز کو نہ نکالنے کی سزا دی جارہی ہے، جج صاحب! آج آپ انصاف کریں، مضحکہ خیز کیس ختم کریں۔ ڈاکٹرزکی ٹیم آئی، مجھے اسپتال ایڈمٹ کرنے کا کہا گیا، مجھے ایڈمٹ کرانے سے انکار کردیا گیا، کہا گیا کہ ہاسپٹل ایڈمٹ کرایا تو ہم پرانگلیاں اٹھیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے 5 سال قبل جج کے تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات لے چکا ہے، ایف آئی اے جو چیزیں اکھٹا کرنے کا کہہ رہی ہے، وہ سب ان کے پاس ہے، ایف آئی اے نے تحقیقات کر کے انکوائری ڈراپ کردی تھی۔

وکیل سردارلطیف کھوسہ کا اعتراض

سماعت کے دوران وکیل شعیب احمد شیخ سردار لطیف کھوسہ نے پرائیوٹ وکیل کے اسپیشل پراسیکیوٹر کے طور پر پیش ہونے پر ایک بار پھر اعتراض عائد کیا۔

اسپیشل پراسیکیوٹرنےاٹارنی جنرل کانوٹیفکیشن پیش کیا جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےکےمطابق حکومت ایساکرہی نہیں سکتی، آپ دونوں دلائل دیں، میں اپنےآرڈرمیں اس پوائنٹ پرفیصلہ دوں گا۔

گذشتہ سماعت کا احوال بھی پڑھیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version