قومی اسمبلی نے عدلیہ کے خلاف قراردار متفقہ طور پر منظور کرلی جس میں سپریم کورٹ سے الیکشن کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے قرار داد پیش کی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان مقننہ میں عدلیہ کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے، یہ ایوان تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت کرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق انتخابات سے متعلق کیس میں چار تین کے تناسب سے فیصلے کی ایوان تائید کرتا ہے، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے الیکشن کمیشن میں عدلیہ مداخلت نہ کرے اور الیکشن سے متعلق مقدمات کی سماعت فل کورٹ کرے۔
قرداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سیاسی معاملات میں عدلیہ کی مداخلت کوسیاسی عدم استحکام کاباعث سمجھتا ہے، ایوان توقع رکھتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی،۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں، وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو ان کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ کرے۔
قومی اسمبلی نے عدلیہ سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی اور بعد ازاں اجلاس کل دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
