ڈائٹ سوڈا میں ایک خاص قسم کا میٹھا شامل کیا جاتا ہے جسے اسپارٹیم کہا جاتا ہے تاہم ڈبلیو ایچ او نے اسے ممکنہ طور پر کارسنجینک قرار دیا ہے جوکہ سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر جو کہ عالمی ادارہ صحت کی کینسر کی خصوصی ایجنسی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ aspartame انسانوں کے لیے ممکنہ سرطانی خطرہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ایک اور شاخ، جوائنٹ ڈبلیو ایچ او اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی ایکسپرٹ کمیٹی برائے فوڈ ایڈیٹیو، نے بھی اس خطرے سے آگاہ کیا ہے اور اس بارے میں سفارشات تیار کی ہیں کہ اسپارٹیم کا استعمال کتنا محفوظ ہے اور روزانہ اس کی کتنی مقدار کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس کی مقدار کے حوالے سے جو سفارش کرتے ہیں وہ روزانہ 0 سے 40 ملی گرام فی کلو جسمانی وزن کے حساب سے ہو جیسا کہ اس وقت آسٹریلیا میں ہے۔
یہاں یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اسپارٹیم کیا ہے
اسپارٹیم ایک مصنوعی مٹھاس ہے جو چینی سے 200 گنا زیادہ میٹھی ہوتی ہے لیکن بغیر کسی کلوجولز کے۔ اسپارٹیم کا استعمال بہت سی مصنوعات میں ہوتا ہے بشمول کاربونیٹیڈ مشروبات جیسے کوک زیرو، ڈائیٹ کوک، پیپسی میکس، اور کچھ لوکل براںڈز میں۔ جبکہ کھانے کی دیگر مصنوعات جیسے فلیوڈ دہی میں بھی اسپارٹیم شامل ہوسکتا ہے، لیکن یہ گرم درجہ حرارت پر مستحکم نہیں رہ سکتا اس یہ طرح بیکڈ اشیاء میں استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اسپارٹیم کو مختلف تجارتی ناموں سے بھی جاناجاتا ہے جیسے ایکول، نیٹرا سوئٹ ،کینڈرال اور شوگر ٹوئن۔
لیبارٹری میں کی جانی والی ایک تحقیق میں واضح ثبوت ملے ہیں کہ یہ ایجنٹ کینسر کا سبب بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے جو ثبوت ملے ہیں وہ محدود ہیں اور اس کے لیے ابھی ،مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق کے نتیجے جو نتائج سامنے آئیں ہیں ان میں اسپارٹیم اور کینسر (خاص طور پر جگر کا کینسر) کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔
یوروپ میں کی گئی ایک تحقیق جس میں 475,000 افراد کو 11 سال تک فالو کیا گیا اور پتہ چلا کہ ہر ہفتے کھانے کے ساتھ سافٹ ڈرنک کا استعمال جگر کے کینسر کے خطرے میں 6 فیصد اضافے سے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم یہ مطالعات دوسرے عوامل کو مسترد نہیں کرسکتے ہیں جو نتائج کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس (بشمول اسپارٹیم) لوگوں میں میٹھے کی طلب کو بڑھا نے کا سبب بھی بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں وزن میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے کئی امراض جنم لے سکتے ہیں ۔
