Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اپوزیشن سے حکومت تک کا سفر ہمیشہ یاد رہے گا، بلاول بھٹو

 بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے حکومت تک کا سفر ہمیشہ یاد رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے ایوان میں گالم گلوچ اور بدتہذیبی کی سیاست نہیں کی۔جب ہم اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی مخالفت کرتے تھے تو جمہوری دائرے میں رہنے کی کوشش کرتے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھاندھلی کے خلاف احتجاج کرتے تھے اور مسلط حکومت کو بے نقاب کرنا چاہ رہے تھے مگر ہر وقت ہمارے ذہن میں یہ ہوتا تھا کہ ہم سے ایسا کام نہ ہو جس سے سسٹم کو نقصان ہو، جمہوریت کو دھچکا ہو اور تیسری قوت یا غیرجمہوری قوت فائدہ لے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پوری توجہ اس پر دی کہ عدم اعتماد کے ذریعے سلیکٹڈ وزیراعظم کو نکالنا ہے، تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے ہم اس میں کامیاب ہوئے اور تاریخ رقم کی اور سلیکٹڈ وزیراعظم کو ووٹ کے ذریعے گھر بھیج کر اتحادی وزیراعظم کو منتخب کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہم سب نے ارادہ کیا کہ جو غلطیاں پہلے ہوئی ہیں ان کو درست کرنے کی کوشش کریں، سولین اداروں کو مظبوط بنائیں، پارلیمان کے وقار کو بحال کیا جائے، جمہوریت کو مضبوط کیا جائے اور اب تاریخ فیصلہ کرے گی کہ ہم اس میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ہمیں ایک ایسی اپوزیشن ملی جس کو نہ جمہوریت کی فکر تھی، نہ پارلیمان، نہ ملک اور نہ ہی کارکنان کی فکر تھی اور انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں وہ ریڈ لائن عبور کی جو کبھی نہیں ہوئیں کیونکہ جب ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر چڑھایا گیا اور دو وزرائے اعظم کو جلاوطن کیا گیا تب بھی اس قسم کی سیاست نہیں کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں ایسی اپوزیشن ملی جس نے تاریخ میں پہلی بار جناح ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملہ کیا، اور جب ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو پھر ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے ایسے کچھ اقدام اٹھانے پڑے تاکہ پھر سے ایسے کام نہ ہوں لیکن افسوس کے ساتھ ہمیں جو نظر آرہا ہے ہماری اپوزیشن کوئی سبق نہیں سیکھ رہی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کا سیاست کا طریقہ کار اور انداز آج بھی وہی ہے کہ یا میں کھیلوں گا یہ کسی کو نہیں کھیلنے دوں گا۔اب ہم انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس نظام کو کیسے چلنے دیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ نیا میثاق جمہوریت نہ ہی صحی پرانے میثاق جمہوریت کو تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو تسلیم کرنا ہوگا، ہمیں بیٹھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا واپڈا کو وفاقی وزیر برائے آبی وسائل چلائیں گے یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کو چلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں 15 ماہ کا جو وقت ملا اس میں ہم تمام اداروں کو دائرے اختیار میں کام کرانے کے حوالے سے کامیاب نہیں ہوئے، اپوزیشن پر بھی فرض ہے کہ وہ اپنا رویہ درست کرے اور ہم پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم سب سیاستدان بنیں جبکہ سیاست و جمہوریت کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ میں نے کچھ دن قبل بھی یہ بیان دیا تھا کہ نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ایسے فیصلے لینے چاہئیں جس سے میرے اور مریم نواز کے لیے آگے جاکر سیاست آسان ہو نہ کہ مشکل۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہم چل رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسے 30 سال آپ نے بھگتا ہے ہم بھی آگے جاکر وہی سیاست کریں، ہمارے ملک کے نوجوان اس روایتی سیاست سے تنگ آچکے ہیں، وہ اب نہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں نہ کسی اور پر جبکہ ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہمارا نوجوان نسل ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ایسے فیصلے لینے چاہئیں جس سے میرے اور مریم نواز کے لیے آگے جاکر سیاست آسان ہو۔لگتا ہے بڑے ہم سے وہی سیاست کرانا چاہتے ہیں جو 30 سال انہوں نے بھگتی ہے، ملک کے نوجوان اس روایتی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version