Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امید ہے نوے دنوں میں انتخابات کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن بعد الیکشن کے انعقاد کا واضح حکم ہے تو پھر کیوں بار بار اس معاملے پر تکرار ہوتی ہے، امید ہے نوے دنوں میں انتخابات کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری کی جانب سے چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔

تقریب سے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری آج الوداعی تقریب ہے، جو جج صاحبان اور وکلاء یہاں تشریف لائے ان سب کا شکار گزار ہو،آپ سب کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، اللہ آپ سب کو خوشیاں عطا کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میرے مولا مجھے حکمت دے میں اچھے فیصلے کر سکوں اور جب میں چلا جاؤں تو لوگ مجھے الفاظ میں یاد کریں۔ریٹائرمنٹ کے بعد ہوسکتا ہے میرا تعلق آپ لوگوں سے اتنا تعلق نہ رہے مگر ہم سب یہاں ایک وجہ سے اکھٹے ہوئے اور وہ قانون کی عملداری ہے، ہماری کوشش تھی کہ زیر التوا کیسز کم کریں اور ایک سال میں ہم نے دو ہزار کیسز کم کیے مگر یہ اطمینان بخش کارکردگی نہیں ہے۔

عمر عطاء بندیال نے یہ بھی کہا کہ ہم نے چیزوں کو پرکھا تو کچھ چیزیں سامنے آئیں، فیصلے کسی ایک فرد کے نہیں ہوتے یہ ادارے کے ہوتے ہیں، جو ہم نے فیصلے کیے انکو سراہا گیا، اصول طے کیے کہ ہماری عدالت میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔ تقسیم یہ ضرور ہے کہ براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے یا ہائیکورٹ سے ہو کر آیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جن ججز نے جرات کیساتھ فیصلے دیئے ان کو سراہتے ہیں، ہمارے سامنے جوان وکلاء نے بھی دلائل دیئے، بار کونسلز مضبوط ہوں گی تو عدلیہ مضبوط ہوگی،  میں سپریم کورٹ بار، ہائی کورٹ بار سے کہتا ہوں براہ مہربانی متحد رہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ازخود نوٹس لینے سے اجتناب کیا، بابر اعوان صاحب نے دھواں دار تقریر کی جبکہ میں نے سوچا شاہد وہ ہمارے سامنے درخواست لیکر آئیں گے، اب ہوسکتا ہے کہ بابر اعوان صاحب بعد میں درخواست لیکر آئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے پچھلے سال بارہ ججز کیساتھ کام کیا، دیگر کیسز کے سبب عدالتی وقت برباد ہوا، ہم چاہتے ہیں آئین کی حکمرانی ہو اور نہیں چاہتے کہ بار بار کیسز ہمارے سامنے آئیں۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہائی کورٹس کے ججز انتہائی دلیر ہیں جبکہ ہمارے تمام ججز آزاد ہیں، عدلیہ کے آزاد ہونے کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، میں وہ آخری شخص ہوں جو عدلیہ تحریک کے بعد بحال ہوا، پندرہ سال پہلے عدلیہ کی بحالی تحریک میں ایک شعر بھی پڑھا کرتا تھا۔ عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد میں آخری ڈائناسور ہوں جو عدلیہ میں واپس آیا۔

خطاب کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب چیف جسٹس کی گفتگو کے دوران آواز بھر آئی اور وہ تھوڑے سے جذباتی بھی ہوئے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے چیف جسٹس کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب کو گڈ ٹو سی کہنا چاہتا ہوں، میرا خطاب شارٹ اینڈ سویٹ ہوگا، آپ اور آپکے ججز نے ہمیشہ ہمارے ساتھ محبت کا رویہ اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، ججز کی امیدیں عدلیہ اور وکلاء سے ہیں، بہت سے ایشوز عدلیہ کے سامنے زیر التواء ہیں، لوگوں کو یقین ہونا چاہیے ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، امید ہے عدلیہ متحد ہو کر آگے چلے گی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version