پنجاب میں چنیوٹ کےعلاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران 50 افراد کا قاتل دہشتگرد ساتھی سمیت مقابلے میں مارا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گرد نے مزاحمت کی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا، غضنفر ندیم کے ساتھ مارے جانے والے دہشت گرد کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران انتہاٸی مطلوب دہشت گرد سمیت دو ملزم ہلاک، تین فرار ہوئے۔ کاررواٸی تھانہ رجوعہ کے علاقہ میں بارود فیکٹری کے قریب کی گٸی۔
سی ٹی ڈی کا چنیوٹ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
50 افراد کا قاتل ساتھی سمیت مقابلے میں مارا گیا، سی ٹی ڈی
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #CTD pic.twitter.com/9Zqww7gSjE— BOL Network (@BOLNETWORK) December 23, 2023
ترجمان کے مطابق دہشت گرد کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، غضنفر ندیم 2011 سے مفرور تھا اورمختلف ادارے تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔ مذہبی منافرت پر مبنی دہشت گردی میں غضنفر ندیم ماسٹر مائنڈ تھا، کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے گولہ بارود ، جدید اسلحہ قبضہ میں لیا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ غضنفرندیم عرف خالد حبیب مختلف القابات سے جانا جاتا تھا، دہشت گرد فیصل آباد میں 11 بڑی کارروائیوں میں ملوث تھا، دہشت گرد نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملے سمیت ٹارگٹ کلنگ بھی کی، غضنفر ندیم کی ہلاکت سے دہشت گردی کے مزید واقعات میں کمی متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی پنجاب محفوظ معاشرے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔
