سینیٹ میں الیکشن ملتوی ہونے کی قرارداد پر ووٹ دینے والے پیپلزپارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی کو پارٹی نے شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
ایوان بالا (سینیٹ) نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں قرارداد کی منظوری کے وقت 14 سینیٹرز موجود تھے، اس دوران (ن) لیگ کے سینیٹر افنان اللہ سمیت دو ارکان نے قرارداد کی شدید مخالفت کی جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی، فاٹا اراکین اور پیپلز پارٹی کے بہرمند تنگی نے 8 فروری 2024 کوانتخابات معطل کرنے کی قرارداد کی حمایت کی۔
سینیٹ میں الیکشن ملتوی ہونے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے سینیٹر کے خلاف ان ایکشن آگئے اور قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر بہرہ مند تنگی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس اعلی قیادت کی ہدایت پر سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے جاری کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آپ نے پارٹی لیڈرشپ کی ہدایات اور پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
شوکاز نوٹس کے متن میں بہرہ مند تنگی سے وضاحت طلب کی گئی کہ آپ نے قرارداد کی حمایت کیوں کی اور آپ نے قرار داد حمایت میں تقریر بھی کی جب کہ آپ کو معلوم ہے 8 فروری کے انتخابات کے کیلیے پارٹی پرعزم ہے، اس کے باوجود آپ نے قرارداد کی حمایت کیوں کی، ایک ہفتے میں جواب دیں۔
اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پی پی پی سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی حمایت نہیں کرتی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واضح کرچکے ہیں کہ ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی بروقت ، منصفانہ اور شفاف انتخابات چاہتی ہے جب کہ الیکشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ سپریم کورٹ نے دی ہے۔
