Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جماعت اسلامی ملک میں احتساب کا نظام نافذ کریگی، سراج الحق

سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں احتساب کا نظام نافذ کریگی۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تلہ گنگ شہر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا ہے کہ فلسطین میں جہاد فرض ہو چکا ہے، سب سے پہلے عربوں پر جہاد فرض ہے اگر وہ نہیں کرتے ہم پر یہ جہاد فرض ہے ، اگر میں حکومت میں ہوتا تو سب سے پہلے فلسطین پہنچتا۔

انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد بے غیرتوں کا قبرستان ہے ، یہ صرف ایک کام کر سکتے ہیں اور وہ کام ہے کرپشن۔ اب غریب کی باری ہے ، اب کاشتکاروں کی باری ہے ، آٹھ فروری یوم الحساب ہے ، تمام سرکاری محکموں کو تباہی کیا قوم حساب کریگی۔

سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ ہم وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرینگے ، مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کرینگے ، خواتین کےلئے الگ نظام لائیں گے جبکہ ہم خواتین کو وراثت میں حصہ دلائے گے، ان کے لئے الگ مارکیٹیں بنائیں گے اور ان کو بڑھاپا الاؤنس دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر انصاف فروخت ہوتا ہے ہم ایسے ظالموں کے خلاف ہیں اور اگر آپ بھی ظالموں کے خلاف ہیں تو ترازو کا ساتھ دیں۔ نوازشریف ، زرداری جیسے حکمرانوں سے ملک کو نجات کا وقت آگیا ہے، ہم پاکستان کی عوام کو ملک کو لوٹنے والوں سے نجات دلائیں گے،

امیر جماعت اسلامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطین پر 85 دن سے اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ، معصوم بچوں بچیوں کو بموں سے مارا جارہا ہے۔ امریکہ ، برطانیہ کے صدر اور وزیر اعظم اسرائیل جاتے ہیں لیکن ایک بھی مسلمان حکمران آج تک فلسطین نہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ آج پہلی بار خواتین بہنوں کی بڑی تعداد جلسہ میں شریک ہے ، جماعت اسلامی کا واضع نظریہ ہے ، خالق کائنات کا نظام زندگی کا نفاذ ہے، اس وقت ملک میں انگریز ، وڈیروں ، قبضہ مافیا ، عدالتوں میں ظلم کا نظام ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ نظام آجائے جو وقت کے خلیفہ سے سوال کیا جائے تو جماعت اسلامی کے امیدواروں کو منتخب کریں، قرآن کے نظام کے علمبردار ہمارے امیدواران ہیں ان کو ووٹ دیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی سمیت سب نے سود کا نظام دیا ، آج ملک میں سود کا نظام ہے اگر اللہ نے موقع دیا تو سب سے پہلے سود کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ جماعت اسلامی ملک میں احتساب کا نظام نافذ کریگی، عدالتوں میں عدل وانصاف کا نظام ہوگا ، غریب چوکیدار سے لیکر صدر تک بلا تفریق عدل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version