نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ دہشتگرد بزدل، بےغیرت ہیں جو چھپ کر حملے کرتے ہیں اگر ان میں حیا اور جرات ہے تو بلوں سے نکلیں سامنے آکر لڑیں، یہ 10 حملے کریں گے ہم ہزار بار جواب دیں گے۔
پشاورمیں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ کے پی کے پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ کا ہم پر قرض ہے۔ میں ایک مقروض کی حیثیت سے آیا ہوں۔ جوعزت احترام آپ کا ہے وہ ہم ادا نہیں کرپاتے۔ بسا اوقات ہم آپ کو مالی وسائل اس طریقے سے مہیا نہیں کرپاتے جو کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف آرا رکھنے والے احادیث کا حوالہ دے کر فساد پیدا کرتے ہیں، یہ گرے ہوئے لوگ ہیں، اس شہر میں انہوں نے بچے قتل کیے، کس نبی کے نام پر اے پی ایس میں ان کے ٹکڑے کیے؟ ان بے غیرتوں کو حیا آنی چاہیے، ہم ان سے نہیں ڈرتے، میں نے مر جانا ہے خودکش حملے میں بھی مارے جانا ہے۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم ان کو علیٰ الاعلان کہتے ہیں یہ 10 حملے کریں گے ہم ہزار بار جواب دیں گے، یہ دین کے نام پر کس کو ڈراتے ہیں، زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، بہت لوگ کہتے ہیں 20 دن بعد آپ نہیں ہونگے، سخت باتیں نہ کریں، جب تک آخری سانس ہے ایسی باتیں کرینگے، مزید شدت اوریقین کے ساتھ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو دہشتگرد ہیں انہوں نے فیصلہ خود کیا ہے ان پر کوئی زبردستی نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے وہ جاتے ہیں اور کسی وجہ سے تیار ہوتے ہیں کہ ہمیں اس ریاست میں لڑائی لڑنی ہے، اس اختیار کے بعد وہ ہمدردی کے لائق نہیں، کسی طبقے کو یہاں کے قوانین سمجھ نہیں آرہے تو وہ کہیں اور چلاجائے ان کے ساتھ زور زبردستی نہیں، دنیا بھر میں سب کو یہی وردی دی گئی ہے اور سب کو ایک ہی اختیار دیا گیا ہے، خودکش حملہ آور ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں لیکن ہم حکمت اور ہمت سے یہ لڑائی لڑیں گے۔
