سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوج کے خلاف پوسٹ کرنے پراسرائیلی ٹیچر کو گرفتار کرلیا گیا۔
برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیلی ٹیچر نے غزہ میں اموات پراظہار افسوس کرتے ہوئے غزہ میں فوجی آپریشن پرنتقید بھی کی تھی۔
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کے بعد اسرائیلی ٹیچر کو نوکری سے نکال دیا گیا جب کہ اسرائیلی ٹیچر نے اسرائیلی شہریوں سے متعلق لکھا تھا کہ فلسطینی بھی انسان ہیں۔
اس حوالے سے اسرائیلی ٹیچر کا کہنا تھا کہ اپنی پوسٹ میں فلسطینیوں کونشانہ بنانے کی مخالفت کی تھی، حماس کا حمایتی قرار دینے پر اسرائیلی میڈیا پر مقدمہ کروں گا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی ٹیچر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا ’’غزہ سے ہولناک تصاویر آرہی ہیں، پورے پورے خاندان کا صفایا ہورہا ہے، میں عام طور پر اس طرح کی تصاویر اپلوڈ نہیں کرتا لیکن ذرا دیکھو ذرا ہم بدلے میں کیا کرتے ہیں‘‘۔
اسرائیلی ٹیچر نے اپنی پوسٹ میں 8 اکتوبر کو غزہ پر پہلے فضائی حملے میں مارے گئے ابو دقعہ کے خاندان کی تصاویر کے ساتھ یہ پیغام شیئر کیا تھا۔
انہوں نے مزید لکھا تھا ’’اگر کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ کل کا واقعہ جائز ہے تو اسے خود سے دوستی ختم کردینی چاہیے، میں باقی سب سے کہتا ہوں کہ اس پاگل پن کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور اس سب کو ابھی ختم کریں‘‘۔
