پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ انتخابی نشان کے نام پر پی ٹی آئی والوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اڈیالہ جیل میں تین سے چار عدالتیں لگائی گئیں، عدالتوں کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے، وکلاء کی بھی تضحیک کی جاتی ہے، ہم صبح سے شام تک راولپنڈی کی اور اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، توشہ خانہ کی تصاویر دیکھا کر ایک پرائیوٹ کمپنی سے تخمینہ لگایا گیا، من پسند ایمبیسی کے بندے کو بھجوا کر ایک تخمینہ لگایا گیا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپنے من پسند دکاندار کو تصاویر دکھا کر تخمینہ لگایا گیا ایسا نہیں ہوتا، بے نظیر بھٹو کا بھی ایک کیس ایسا تھا جس میں ہار دیکھا کر تخمینہ لگوایا گیا، ایسا مذاق نیب کرتا رہا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے، 230 ممبران کو ہم سے چھینا گیا، سپریم کورٹ نے رات میں جا کر فیصلہ دیا کہ بلا چھین لیا گیا، ہمیں پارلیمان سے باہر کر دیا گیا، ہمیں ان سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 25 کروڑ عوام کے پاس جائیں گے، ہمیں کیا لیول پلینگ فیلڈ دیں گے ہم سے فیلڈ چھین لی گئی، بلے کا نشان واپس لینے سے عوام میں بہت غصہ پایا جاتا ہے، ان کی تمام سازشوں کو دفن کریں گے، یہ ممنوعہ فیصلہ تاریخ میں لکھا جائے گا، کبھی آپ نے سنا کہ ایک آئینی ادارہ جیل میں آکر فرد جرم عائد کرے، نواز شریف کے وکلاء کو رکھ کر ان کیسسز کی پیروی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ معاہدہ ہوا کہ 7 سیٹیں ان کو دی جائیں گی، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے معاہدے کرنے والوں کو شیخوپورہ سے اٹھایا گیا، معاہدہ کرنے والوں سے ایک رٹا ہوا بیان چلایا گیا، الیکشن کمیشن نے بدنیتی پر مبنی ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے، جمہوریت کو نقصان کا خمیازہ ہماری نسلیں بھگتیں گی، صبح سے مغرب تک ہم عدالتوں میں پیش ہی ہوتے رہتے ہیں، ہم تو شفاف الیکشن اور لیول پلیئنگ فیلڈ لینے آئے تھے، ہم سے تو فیلڈ ہی چھین لی گئی ہے۔
