عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب خان نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے تھے، ہم سب کے پاس عدالتی احکامات موجود ہیں، عدالتی احکامات کے باوجود ہمیں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہمیں بتایا گیا کہ سیکورٹی وجوہات کے باعث ملاقات پر پابندی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپرینڈنٹ اڈیالہ جیل بھی موجود نہیں اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ ہم سے بات کرنے کے بجائے بھاگ گیا، ہم جیل انتظامیہ کو قومی اسمبلی میں بلائیں گے۔
عمر ایوب خان نے یہ بھی کہا کہ جیل میں کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، دو ہفتوں کیلئے ملاقاتوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو شرم آنی چاہیے جبکہ نئے وزیر داخلہ پنجاب محسن نقوی کی ہدایات پر یہ کام ہورہا ہے، کہاں گیا قانون اور آئین کی بالادستی؟ ہمارا مطالبہ ہے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو۔
عمر ایوب خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے سینیٹرز چٹان کی طرح کھڑے ہیں ہم آگ کا دریا عبور کرکے آئے ہیں، ہم سینیٹ الیکشنز پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کرنا چاہتے تھے، ہم الیکشن جیت کر دکھائینگے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زیرو جمع زیرو ہے، صدر ہاؤس میں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج شخص کو بٹھایا گیا ہے۔،جو کام نہیں کر سکتا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ عوام ہماری ترجیح ہے اسی لئے ہم نے آئی ایم ایف کو خط لکھا تھا، ہمارے دور میں سارے سیکٹرز میں بہتری آرہی تھی، ہمارے دور میں روپے اور ڈالر کی قدر و قیمت دیکھیں اور اب دیکھیں۔۔
