Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کا مل بیٹھنا وقت کی ضرورت ہے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا ہے کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کا مل بیٹھنا وقت کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سابق نگراں وزراء کی جانب سے ان کے دور میں کیے گئے اقدمات پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں ایس آئی ایف سی سے متعلق ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے جبکہ اجلاس میں سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نگران کابینہ نے بھی شرکت کی۔

چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز، سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ اور علی امین گنڈا پور سمیت وفاقی وزراء بھی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایس آئی ایف سی ایک اہم پلیٹ فارم ہے جسے جاری رکھا جائے گا، ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی نے نگران حکومت میں بھی مؤثر کام کیا ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے یہ پلیٹ فارم بہت اہم ہے، ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے ،عسکری قیادت موجود ہے، یہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ملکی ترقی کیلئے ہم سب اکٹھے ہیں، ایس آئی ایف سی کی میٹنگ میں ٹھوس فیصلے ہوئے اور عمل درآمد ہوا۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ معیشت کوبہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں، ئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ ہوگیا ہے،مائیکرو لیول پر استحکام لانا ضروری ہے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، وفاق اکیلے ذمےداریاں ادا نہیں کرسکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یقین ہے وفاق اور صوبے مل کر چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، آگے بہت چیلنجز آئیں گے،منہگائی کا طوفان ہے، ایف بی آر کو ڈیجیٹائز کریں گے جبکہ ذاتی مفادات ایک طرف کرکے قومی مفاد میں  ساتھ چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی سالانہ چوری 400 ارب روپے ہے، نگراں دور حکومت میں 87 ارب روپے کی  بجلی بچائی گئی، بجلی اور گیس کا سرکلر ڈیٹ 5 کھرب روپے ہے، پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلیے بہت بڑی سیاسی قیمت ادا کی ہے۔

شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ نگراں دور میں 10 ارب ڈالر کے یو اے ای کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہوئے جبکہ جعلی ادویات اور بیج فروخت ہوتے تھے،اس حوالے سے پالیسی بنائی گئی، اسمگلنگ کی روک تھام ہوئی اور 825 ارب روپے پی آئی اے کا قرض ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ ماضی میں ایلیٹ کے لیے سبسڈیز دی گئیں، آگے ہمیں بہت کڑوے فیصلے کرنا ہیں ، ان فیصلوں کا بوجھ ان طبقوں پر آنا چاہیےجو یہ بوجھ اٹھا سکیں، وفاق اور صوبو نے ملکر ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version