ایچی سن کالج کے پرنسپل کے استعفے کے معاملے پر گورنر پنجاب کا ردعمل سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق پرنسپل ایچی سن کالج مائیکل اےتھامسن نےاستعفیٰ دیدیا۔ مائیکل اےتھامسن نےایچی سن کالج کے اسٹاف کوخط کے ذریعےآگاہ کیا۔
پرنسپل ایجی سن کالج مائیکل اےتھامسن نے اسٹاف کےنام خط جاری کردیا جس میں انہوں نے کہا کہ اب تک ایچی سن کالج چھوڑنے کاارادہ نہیں کیا تھا لیکن میرے لیے دوسراراستہ نہیں بچا، بطورپرنسپل میں نےہمیشہ اسکول کی ساکھ کی حفاظت کی، کچھ لوگوں کوترجیح دینےکےلیےپالیسی کونقصان پہنچایاگیا۔
دوسری جانب گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ احد چیمہ ملازمت کی وجہ سے ایک سال سے اسلام آباد میں تعینات تھے، احد چیمہ کے بچے ایچی سن میں نہیں جا پارہے تھے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ جو کلاسز ان بچوں نے نہیں لی تھیں ان کی فیس معاف کرانے کی درخواست دی تھی۔
ایچی سن کالج کے پرنسپل کے استعفےکے معاملے پرگورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پرنسپل ایچی سن کالج دومرتبہ استعفے کی درخواست دےچکے تھے، بورڈ نے نئےپرنسپل کی تعیناتی نہ ہونےکی وجہ سے استعفیٰ قبول نہیں کیاتھا، اگلےمہینےایچی سن کالج کے نئے پرنسپل کی تعیناتی فائنل کرلی گئی ہے جب کہ اگست 2024 میں پرنسپل کا استعفیٰ قابل عمل ہو جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پرنسپل ایچی سن کالج 40 لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہے تھے، 40 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرنے کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پرنسپل ایچی سن کالج ایک سال میں 100 سے زائد چھٹیاں کرتے تھے جب کہ انکوائریوں سے بچنے کے لیے پرنسپل ایچی سن کالج نے یہ حربہ اپنایا ہے۔
خیال رہے کہ ایچی سن کالج کےبورڈ آف گورنرزکےسینئرممبربابرعلی بھی مستعفی ہوگئے، سید بابرعلی نے کچھ ہفتے قبل بورڈ سے استعفی دیدیا تھا۔ بابرعلی پرنسپل مائیکل تھامسن کے فیصلوں کی تائید کرتے رہے۔
