وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت اورعوام بشام واقعے پرچینی حکومت اورعوام کے ساتھ ہیں، بشام واقعہ کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26مارچ کو بدقسمتی سے بشام میں اندوہناک واقعہ پیش آیا، بشام واقعے میں 5 چینی انجینئرز جاں بحق اور ایک پاکستانی شہید ہو گیا، بشام واقعہ کے پیچھے وہ دشمن ہیں جو پاک چین دوستی کو مضبوط ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔
وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ پاکستانی قیادت اورعوام واقعے پر چینی حکومت اورعوام کے ساتھ ہیں، چین کے سفارتخانے میں جا کر تعزیت کی اور چینی قیادت کو تعزیتی پیغام دیا، چینی قیادت کو یقین دلایا کہ واقعہ کی فوری تحقیقات کی جائیں گی، بشام واقعہ کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اعلی سطح سیکیورٹی اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بشام واقعہ پرانکوائری کمیٹی بنائی اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی، انکوائری کمیٹی کو تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بشام واقعہ پر پیش رفت ہوئی ہے اور معاملات سامنے لائے جا رہے ہیں، محمد نوازشریف کے دور میں 2013 سے 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا، دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستانیوں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے قربانیاں دیں، گزشتہ دو تین برس میں دہشت گردی کے ناسورنے دوربارہ سراٹھایا ہے، چین کے انجینئرزاورانکے خاندانوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ رواں ماہ چار مارچ کو دوسری مرتبہ وزارت عظمی کا حلف اٹھایا، ہم سب نے مل کر چینلجز کا مقابلہ کرنا ہے، پانچ سالہ منصوبہ کابینہ کے ارکان کے ساتھ شئیر کیا ہے، کابینہ ارکان کو وقت ضائع کیے بغیر کام شروع کرنا ہے، مقاصد کے حصول کے لیے حکمت عملی تیارکرنی ہوگی، مقاصد کے حصول کے لیے سب وزارتوں نے س توڑ محنت کرنی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی کمی ہے تو بہترین یونیورسٹیوں سے قابل لوگ لیے جائیں، وزارتوں میں مایہ ناز سیکرٹریز موجود ہیں جس سے کام لیا جا سکتا ہے، ہم نے پانچ سالوں میں پاکستان کی معیشت کو بدلنا ہے، تمام وزارتوں کے اہداف کے حصول کیلئےجلد حکمت عملی اپنائی جائے، ذمہ داری کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چل سکتا، ہر وزارت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مضبوط معیشت کے لیے وزارت خزانہ میں مسلسل اجلاس منعقد کر رہے ہیں، زراعت، پیٹرولیم ، توانائی سمیت تمام شعبوں میں ترقی کرنی ہے، معیشت کا پہیہ چلے گا تو تمام معاملات چلیں گے، چیف جسٹس نے معیشت کے استحکام کیلئے بھرپورتعاون کا یقین دلایا ہے، ترقی کے حصول کے لیے نوجوان نسل کوخصوصی تربیت دینا ہوگی، پاکستان سے چینی اور گندم کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ زراعت کے میدان میں ترقی کرنی ہے، اگر ہمت، نیت اور سوچ ہو تو اللہ راستے پیدا کر دیتا ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کرنے جا رہے ہیں، سرکاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی لے کر آنی ہے، ہم نے دن رات بڑی محنت کے ساتھ کام کرنا ہے، اگلے پانچ سالوں میں ایکسپورٹس کو کم از کم دو گنا کرنا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے شہدا اورغازی اس قوم کے ہیرو ہیں، مؤثر دفاعی صلاحیت کے لیے مسلح افواج کی ضروریات پورا کریں گے، تمام وزارتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل کریں گے۔
