Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزاد کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور اس کے بعد کشمیر کے صورتحال مزید پر امن ہو جائے گی۔ 

آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ چند روز سے بجلی اور آٹے کے لیے عوام اپنی جدوجہد جہد کو ریکارڈ کروا رہے تھے، سستی روٹی اور سستی بجلی ایسے مطالبے ہیں جس سے کوئی بھی زی شعور انکار نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ساری صورتحال کے حل کے لئے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پارلیمانی ممبران کو صدر ہاوس بلا کر پوچھا کہ اگر وہاں کوئی مسئلہ ہے تو ہم سندھ سے بھی بجلی دینے کو تیار ہیں جب کہ وزیراعظم  شہباز شریف نے مجھے لاہور سے فون کیا اور یقین دلایا کہ ہم اس مسئلے کو حل کریں گے۔

انوار الحق کا کہنا تھا کہ لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے جمہوری حکومت ہے وہ پر امن جدوجہد کو سمجھتی ہے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے باوجود 100 سے زائد آزاد کشمیر کی پولیس زخمی ہوئی، ایک سب انسپکٹر نے جامہ شہادت نوش کیا، اس سب کے باوجود فائر استعمال کرنے سے منع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈر کو مدعو کیا گیا، پاکستان کی حکومت بھی مشکلات کا شکار ہے،  میں کھلے دل سے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیوں کہ وزیر اعظم نے تمام تر تحفظات کو مسترد کر کے کشمیریوں کے حق کے کیے انہوں نے فل فور نوٹیفیکیشن جاری کیا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ فوڈ سبسڈی میں 3100 روپے فی من آٹے کی قیمت تھی، اس میں 1100 کم کر کے 2000 فی من کر دی گئی جب کہ اس سے قومی خزانے پر 23 ارب سے زائد کا بھوج پڑے گا، جس کو حکومت پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

انوار الحق نے کہا کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی محنت رنگ لائی ہے، اس معاملے سے بہت کی عمدہ طریقے سے نمٹا گیا ہے، ان معاملات کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اخراجات میں کمی لائیں گے اور عوام کو ان کا حق دیں گے، ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا کام مکمل ہونے کے بعد مزید ریلیف ملے گا

وزیراعظم آزاد کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور اس کے بعد کشمیر کے صورتحال مزید پر امن ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر سچ نہیں بکتا، مفروضہ بکتا ہے، مجھے اس کا ادراک تھا، میں ایکشن کمیٹی سے کئی مرتبہ مذاکرات کئے، میں نظریاتی طور پر کوئی ایسا جملہ نہیں کہوں گا، جو پاکستان اور کشمیر کے تعلقات کو خراب کرے۔

وزیر اعظم انوار الحق نے کہا کہ ہمارے کسی وزیر نے کبھی حکومت پر تنقید نہیں کی، یہ ایک اتحادی حکومت ہے، ایکشن کمیٹی سے مذاکرات بھی یہی وزراء کر رہے تھے، میرے آنے سے پہلے آٹے کا کوٹہ 3 لاکھ ٹن تھا جو پورا نہیں ہو رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں چوری ہو رہی تھی، ہمارے آنے کے بعد وہی آٹا کشمیر کی عوام کے لیے پورا ہو رہا ہے، اگر سیاسی حادثات نا ہوتے اور کشمیر کا بجٹ بڑھایا جاتا تو آج حالات ہوتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پانی سے بجلی 9 سے 11 روپے کی پڑ رہی ہے، اگر اس سے بجلی بنائی جائے تو آپ بجلی دے بھی سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version