سلوواکیا کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کو حکومتی اجلاس کے بعد گولی مار دی گئی۔
سلوواکیا کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کو آج مرکزی شہر ہینڈلووا میں کابینہ کے اجلاس کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ایک مسلح شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔
وزیر اعظم رابرٹ فیکو اس حملے میں زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی اخبار کے رپورٹر نے وزیر اعظم کو سکیورٹی گارڈز کے ذریعے ایک کار میں اٹھاتے ہوئے دیکھا، نے خبر دی کہ مشتبہ مسلح شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
یہ واقعہ حکومتی اجلاس کے اختتام کے بعد پیش آیا اور فائرنگ کے واقعے کی تفصیلات اب بھی سامنے آ رہی ہیں۔
مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے مشتبہ مسلح شخص کو حراست میں لیے جانے کے بعد سیکیورٹی گارڈز نے فیکو کو ایک کار میں اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
پارلیمنٹ کے نائب چیئرمین لوبوس بلاہا نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم رابرٹ فیکو اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کئی گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ایک شخص کو حراست میں لیا۔ سرکاری دفتر نے ابھی تک اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
اگرچہ تفصیلات محدود ہیں ، لیکن رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحال وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
خبر رساں ادارے نے خبر دی ہے کہ فائرنگ کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سلوواکیا کی صدر زوزانا کپوتووا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘سفاکانہ’ قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم رابرٹ فیکو ایک معروف رہنما ہیں جو اپنے روس نواز موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور سلوواک کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت تصور کئے جاتے ہیں۔
