Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450 ارب دینے کا انکشاف؛ کیا ملکی برآمدات 60 ارب ڈالر تک جاسکتی ہیں؟

رواں سال کے پہلے تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450 ارب دینے کا انکشاف ہوا ہے جب کہ حکومت نے ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف دے دیا ہے۔

پاکستان کی معیشت پر آئی پی پیز ایک بڑا بوجھ بن گئے ہیں، رواں سال کے پہلے تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450 ارب دینے کا انکشاف ہوا ہے جب کہ پچھلے سال 1800 ارب اور مالی سال 2022-23 کے دوران بھی آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں 1300 ارب کے قریب ادا کیے گئے ہیں۔

پنجاب کے سابق نگران وزیر صنعت و پیداوار ایس ایم تنویر کا بول نیوز کے پروگرام بیوپار میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2.6 ٹریلین روپے آپ کیپیسٹی چارجز میں ادا کررہے ہیں، وہ بھی ان لوگوں کو جو بجلی پیدا بھی نہیں کررہے یعنی آپ دفاعی بجٹ سے زیادہ رقم ان آئی پی پیز کو دے رہے ہیں۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ اس وجہ سے عوام کا بھرتا نکل گیا ہے اور مسلسل انڈسٹریز بند ہوتی جارہی ہیں۔ جب ہم نگران حکومت میں تھے تو ہم نے وفاقی حکومت سے اپیل کی تھی کہ اس کا فوری حل نکالا جائے، اگر آپ اس کا حل نہیں نکالتے تو ہر چیز برباد ہوجائے گی جب کہ یہ ملک بھی غلط راستے پر چل چکا ہے۔

سابق نگران صوبائی وزیر صنعت و پیداوار نے بتایا کہ کُل آئی پی پیز میں سے حکومت 52 فیصد کی ملکیت رکھتی ہے جس میں چائنہ کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے جب کہ حکومت خود بھی کیپیسٹی چارجز لے رہی ہے تو سب سے پہلے تو حکومت کو اپنا حل نکالنا ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کا فوری آڈٹ کروایا جائے اور اگر اس کے معاہدہ میں کوئی خورد برد نکلتی ہے تو اس کا حل مذاکرات سے بھی نکل آئے گا جیسا کہ اس سے قبل بھی آپ دو مرتبہ ان سے مذاکرات کرچکے ہیں۔

ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے مذاکرات اور اس کا حل نکلالنے کے لیے حکومت نے کوئی کمیٹی بنائی ہے لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں کمیٹی تو بن جاتی ہے لیکن اس پر کام نہیں ہوتا۔

انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر فرانزک آڈٹ کروائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے لیکن آڈیٹر بھی وہ تعینات کیے جائیں جو ایف پی سی سی آئی سفارش کرے کیونکہ ہمیں نیوٹرل لوگ چاہیے، اگر غلط آڈٹ ہوتا ہے تو بھی کام خراب ہوجائے گا۔

پنجاب کے سابق نگران وزیر صنعت و پیداوار کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں 43 ہزار میگاواٹ کے پلانٹ لگے ہوئے ہیں اور اس وقت 13 ہزار میگاواٹ چل رہا ہے۔ جب آپ دو بند پلانٹ پر 2 ٹریلین روپے ادا کررہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ 24 روپے فی یونٹ ادا کررہے ہو۔

ایس ایم تنویر کے مطابق اگر پاکستان کی انڈسٹریز چل جائیں اور کھپت میں اضافہ ہو تو یہ 24 روپے کم ہوکر 8 روپے پر آجائیں گا جو کہ نیپرا کے طے کردہ کیپیسٹی چارجز ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے معاشی اہداف حاصل کرنے کے دعوے سامنے آرہے ہیں جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر روپے تک لے جانے کا ہدف بھی دیا گیا ہے جس پر وزیر خزانہ کافی پراعتماد ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اگست تک حتمی مرحلے تک پہنچ جائے گا اور اس کے بعد پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب بڑھے گی۔

لیکن زمینی حقائق بالکل اس سے برعکس دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اںڈسٹری پریشان ہے اور تاجر اس وقت ہڑتالوں کی کال دے رہے ہیں جب کہ تاجر برادری کی جانب سے احتجاج کا دائرہ بھی وسیع کرنے کا بیان سامنے آیا ہے۔

پروگرام بیوپار میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایل سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ظفر محمود چوہدری نے کہا کہ حکومت کے دعوے میں بڑی مشکلات ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر حکومت درست پالیسی لے کر آئے اور برآمدات کی واضح پالیسی کا اعلان کرے تو ایسا ممکن ہے۔

ظفر محمود چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کو جارحانہ پالیسی بناکر اس کو نافذ کرنا ہوگا لیکن جو اس وقت ملکی حالات ہیں تو اس کو دیکھتے ہوئے تو یہ ہدف مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ 60 ارب ڈالر دور کی بات ہے 30 ارب ڈالر تک جانا بھی بہت مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version