کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال میں زیرعلاج مریضہ میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد صوبے میں کانگو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق 25 سال کی مریضہ کا تعلق ضلع چمن سے ہے جو کانگو وائرس کی تصدیق کے بعد آئیسولیشن وارڈمیں داخل ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال بلوچستان میں کانگووائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 4 ہوگئی ہے جن میں سے ایک مریض کا انتقال ہو چکا ہے۔
کانگو وائرس (CCHF) ایک خون کی بیماری ہے جو خاص طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔
یہ وائرس عام طور پر گائے، بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں میں پایا جاتا ہے، اور جب انسان ان جانوروں کے قریب آتا ہے، یا ان کے خون یا جسمانی رطوبتوں کے ساتھ رابطہ کرتا ہے، تو وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
بلوچستان میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں مویشیوں کی بڑی تعداد ہے، کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ وائرس عموماً موسم گرما میں زیادہ پھیلتا ہے، کیونکہ اس موسم میں مویشیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور کانگو وائرس کے حامل ٹکس بھی زیادہ فعال ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ، بلوچستان کے کچھ حصوں میں محدود طبی سہولتیں اور آگاہی کی کمی بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔
کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، خون کی کمی، خون بہنا، اور جگر کی خرابی شامل ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
