وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج پاکستان اس نہج پر کھڑا ہے جہاں ایک ایک پائی بچانے کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق گرین لائن ایکسپریس ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گرین لائن پراجیکٹ ماضی کے منصوبوں کی طرح دم توڑ چکا تھا جس کی بنیاد نواز شریف دورمیں رکھی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بہترین ریلوے آمدنی کا ذریعہ بنتی ہے اور گرین لائن ٹرین میں جدید سہولتیں میسر کی گئیں ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس نہج پر کھڑا ہے جہاں ایک ایک پائی بچانے کی ضرورت ہے لیکن امید ہے کہ رواں ماہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوجائے گا اور رواں ماہ مشکلات سے نکل جائیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان حالات میں امپورٹ میں کس کوفوقیت ہونی چاہیے ہم نے اسکی فہرست بنائی ہے اور فارن ایکسچینج ریزرو دیکھ کر امپورٹ کی فہرست تیار کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کے سہاروں پر کب تک چلیں گے، یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے، دن رات کام کرنا ہوگا اور قربانی دینی ہوگی۔
خیال رہے کہ پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق گرین لائن ٹرین مارگلہ اسٹیشن سے اپنا سفر شروع کرنے کے بعد راستے میں راولپنڈی، چکلالہ، لاہور، خانیوال، بہاولپور، روہڑی، حیدرآباد اور ڈرگ روڈ پر سٹاپ کرے گی۔
یہ ٹرین حال ہی میں چین سے درآمد کی گئی نئی کوچز کے ساتھ چلائی جائے گی۔
گرین لائن کا ٹرن اراؤنڈ ٹائم 22 گھنٹے مقرر کیا گیا ہے جسے بتدریج کم کیا جائے گا۔
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی ہدایت پر مسافروں کو سفر کے دوران ناشتہ، دوپہر کا کھانا، ہائی چائے اور رات کا کھانا ٹکٹ کی قیمت میں فراہم کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مسافروں کو اعلیٰ معیار کے بستر اور یوٹیلیٹی کٹ بھی فراہم کی جائیں گی۔
