آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کے سامنے کڑی شرائط پیش کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے دوسرے روز آئی ایم ایف نے سخت ترین مطالبات کی لائن لگا دی۔
اس موقع پر آئی ایم ایف نے رواں ماہ کے دوران آرڈیننس کے ذریعے منی بجٹ لانے کی تیاریوں پر ایف بی آر حکام سے بات چیت کی، آئی ایم ایف نے 600 سے 800 ارب روپے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کر دیا۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان معشیت کے 1 فیصد تک ٹیکس آمدن بڑھائے۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف 8300 ارب تک مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو اپنے مزید مطالبات بتاتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس کی مراعات مرحلہ وار ختم کی جائیں، پیٹرول پر فوری سیلز ٹیکس 17 فیصد عائد کی جائیں اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی شعبے کو 110 ارب روپے کا استثنی ختم کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 7470 ارب روپے کا ٹیکس ہدف جمع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ضرور پڑھیں؛ اسحاق ڈار کی آئی ایم ایف کے وفد کو معاہدے کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی
