صوبائی وزیر سندھ اور پی پی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم نے دھاندلی کرتے تو ہماری سیٹیں 125 ہوتیں اور اپنا میئر لےآتے لیکن کراچی بلدیاتی انتخابات کو متنازع بنانےکی کوشش ہورہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پرکوئی اعتراض نہیں، الیکشن کمیشن اپنے افسر کی نگرانی میں دوبارہ گنتی کرادے، ووٹوں کے بیگ کھلیں گے تو سب کچھ سامنےآجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے نتائج حیران کن نہیں، کراچی میں پیپلزپارٹی کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے اور جماعت اسلامی کا نتیجہ کافی حیران کن ہے لیکن ہم تسلیم کرتے ہیں تو جماعت اسلامی بھی ہمارےنتائج تسلیم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کا میئر پیپلزپارٹی کا ہی آئے گا، سعید غنی کا دعویٰ
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے جو امیدوار ہارے انہوں نے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی، صرف ان کے ایک عہدے دار نے 6 یو سیز میں بے ضابطگیوں سے متعلق درخواست دی جس پر الیکشن کمیشن نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے انتخابات کے نتائج روکے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ آر اوز پر پی پی کے حق میں دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ انہی آر اوز نے ہمارے نمائندوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کی تھی اور انہی آر اوز نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جیت کے نتائج بھی جاری کئے
انہوں نے کہا کہ ماضی کے اعتبار سے سندھ بلدیاتی انتخابات اب تک کے سب سے پر امن انتخابات تھے۔
