Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جیل بھرو تحریک، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا کارکنوں کے نام پیغام

جیل بھرو تحریک کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر قیادت نے کارکنوں کے نام پیغام پیش کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے بدھ سے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ  گھروں سے نکلو، جیل بھرو، نظام بدلو، حقیقی آزادی کے لیے جیلوں میں جانا ہو گا۔

پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے جیل بھرو تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بادل جبر کا گہرا ہو، اور سوچو تک پر پہرہ ہو، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اور نظام اشراف کا مہرہ ہو، جب نسلوں تک سنوائی نہ ہو، تاریک قانون کا چہرہ ہو، جب کرن امید کی
مٹ جائے، تو جیل چلو زندان بھرو!

جہاں بلکیں مائیں سڑکوں پر، اور سر مجرم کے سہرا ہو، جہاں جواں ہو اڑنے کو بےتاب بہت، لیکن پروں پر زنجیروں کا پہرہ ہو، جہاں قفل لگے ہوں ہوٹوں پر، اور سچ بھی جرم ہی ٹہرا ہو، تو آزادی بس نام کی ہے، یہ آزادی کس کام کی ہے، اس آزادی سے بہتر ہے، جیل بھرو اور خوف کا بت توڑو۔

جیل بھرو تحریک کا شیڈول

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جیل بھرو تحریک کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔

شیڈول کے مطابق 22 فروری سے یکم مارچ تک روزانہ 200 کارکنان رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیں گے۔ کارکنوں کے ہمراہ سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا چھ رکنی گروپ بھی گرفتاری دے گا تاہم گرفتاریاں نہ ہونے کی صورت میں کارکنان اور اراکین اسمبلی مقررہ مقام پر دھرنا دیں گے۔

شیڈول میں بتایا گیا ہے کہ 22 فروری کو شاہراہِ قائد اعظم لاہور پر گرفتاریاں پیش کی جائیں گی، 23 فروری کو پشاور، 24 کو راولپنڈی، 25 فروری کو ملتان اور 26 فروری کو گوجرانولہ کے کارکنان گرفتاری دیں گے۔

اس کے علاوہ27 فروری کو سرگودھا، 28 فروری کو ساہیوال اور یکم مارچ کو فیصل آباد میں کارکنان رضاکارانہ گرفتاریاں دیں گے۔

شیڈول کے مطابق 22 فروری کو لاہور میں دی جانے والی رضا کارانہ گرفتاری کے لیے کارکنان کی فہرست تیار کرلی گئی۔

لاہور میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اراکین اسمبلی کے گروپ کے ہمراہ گرفتاری پیش کریں گے تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والے سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔

رضاکارانہ گرفتاری پیش کرنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں کی حتمی منظوری عمران خان دیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version