وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم چاہتےہیں عمران خان چوہےکی طرح چھپتے رہیں کیونکہ عمران کو گرفتار کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع نے پاکستان میں موجودہ دہشتگردی کی صورتحال، دورہ افغانستان اور سیاسی صورتحال کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ہے۔
دہشتگردی کی صورتحال:
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے ملک بھر میں جو یہ دہشتگردی کا ٹرینڈ ہے وہ بہت افسوس ناک ہے اور الارمنگ بھی ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ہماری تمام سیکیورٹی فورسز اس صورتحال کا مقابلہ کر رہی ہیں اور پچھلے 3 سے 4 بڑے واقعات میں قربانیاں بھی دی گئیں ہیں جس میں پاک فوج کے جوان، پولیس اور ایف سی اہلکار و دیگر ادارے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی پیش نظر 2 ہفتے قبل افغانستان کا بھی دورہ کیا ہے جہاں سے اچھا رسپانس ملا ہے اور جلد ہی وہاں سے ایک مذاکرات کے لئے ایک گروپ بھی پاکستان کا دورہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے کہ کم از کم افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں جائے، افغانستان ’دعا معاہدے‘ کے تحت باؤنڈ ہے کہ ان کی سرزمین دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہماری جانب سے دورہ افغانستان کے دوران افغان حکومت سے اسرار کیا گیا ہے کہ دعا معاہدے کو آنر کیا گیا جس کو سمجھتے ہوئے میں انہوں نے تجاویز بھی دی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بھرپور کامیابی حاصل کی ہے اور اس بار بھی دہشتگردی پر قابو پائیں گے ۔
عمران خان کی گرفتاری:
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی ملزم نے عدالتون میں پیش ہونے سے انکار نہیں کیا ہے اور خصوصاً سیاسی رہنما یا سیاسی ورکرز اپنی ساکھ اور اپنی عزت کے لئے اپنے حقائق اور اپنے نظریات کے تحفظ کے لئے یہ قربانیاں پہلے بھی دیتے آئیں ہیں اور اس سلسلے میں سب سےبڑی قربانی ذوالفقارعلی بھٹونےدی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار بھٹو پھانسی پر چڑھ گئے جسے بعد میں عدالتی قتل قرار دیا گیا ہے اوع عدالتوں کے آگے قانونی اور آئینی طریقہ اپنانے کا رواج جو ہے وہ میاں نواز شریف نے قائم کیا ہے نوازشریف اور انکی بیٹی نے پیشیاں بھگتیں، قید ہوگئے نااہل ہوئے لیکن عدالتوں کو ڈیفائی نہیں کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان عدالتوں کو ڈی فائی کررہا ہے اور ساتھ اپنے حواریوں کو اکساتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پرتشدد انداز میں پیش آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر حکومت بہت تحمل اور برداشت سے کام لے رہی ہے جبکہ جو انداز عمران خان نے اپنایا ہوا ہے وہ سیاسی رہنما یا سیاسی کارکن کا انداز نہیں ہے اور ان کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان قربانیاں دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے لیکن عمران خان مسلسل بھاگ رہے ہیں اور کب تک ایسے چھپتے رہیں گے؟ اگلے چند دنوں میں ان کی اوقات سامنے آنے والی ہے،آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ کے وینٹی لیٹر کے بغیر عمران خان کی سیاست کی کوئی اوقات نہیں ہے جبکہ ثاقب نثار نے بھی کہہ دیا کہ ہم نے سو فیصد صادق و امین نہیں کہا ہے۔
ان کا کہنا تھا اگر عدالت حکم دیتی ہے تو عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے لیکن ہمیں ان کو گرفتار کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
