Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عمران خان کو کسی بھی عدالت میں پیش ہونے پرکوئی اعتراض نہیں، اسد عمر

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ عمران خان کو کسی بھی عدالت میں پیش ہونے پرکوئی اعتراض نہیں ہے ان کی تحریک ہی قانون کے احترام کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے تاریخ کی بد ترین مہنگائی مسلط کی ہے جس کی وجہ سے کاروبار بند ہورہے ہیں بے روزگاری پھیل رہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہنگائی کی وجہ سے عوام کا جینا مشکل ہوا ہے غریب بلکہ متوسط طبقے کا گزارا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب آج کل منظم طریقے سے مہم چلائی جارہی ہے جسکا ہدف عمران خان ہے جو کہ اس معاشی تباہی سے نظریں ہٹانے کے لیے ایک منظم مہم چلائی گئی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر عمران خان اور تحریک انصاف پر نئے مقدمے چلائے جارہے ہیں اور ایک نئی بات آئی ہے کہ شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری پر پریس کانفرنس کرنے پر ایف آئی آر کاٹ دی ہے  جبکہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ بھی ایف آئی آر کیلئے تیار ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ چار ماہ پہلے تک عمران خان کو جس عدالت نے بھی بلایا وہ جاتے رہے ہیں  کیونکہ عمران خان کی جدو جہد ہی قانون کے احترام کی ہے  لیکن تین نومبر کو عمران خان پر منظم قاتلانہ حملہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے اوپر حملے کا زکر بھی کیا تھا بتایا تھا کہ انھیں قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی  اور پھر سب نے دیکھا عمران خان پر حملہ ہوا اور مذہبی جنونیت کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی، آج بھی عمران خان نے بتایا کہ دوبارہ ان پر حملے کا منصوبہ ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان عدالتوں میں جاہیں گے تو ان پر حملے کا خدشہ ہے  تاہم اس وقت جو ایف آئی آر کاٹی جارہی ہیں وہ چاہتے ہیں عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوں جبکہ عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ بھی گئے اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس بھی گئے  لیکن دونوں جگہ پر سکیورٹی کے انتظامات نہیں تھے  اور ہمارے لوگوں کی رائے تھی کہ یہ خطرہ نہیں مول لینا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی بھی عدالت میں پیش ہونے پرکوئی اعتراض نہیں ہے لیکن لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کا قتل تاریخ کا حصہ ہے  اور اس ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم نے درخواست کی ہے کہ فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کیے جائیں  یا ایک اور بات ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشنز دائر کر رہے ہیں امید ہے کورٹس ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اجازت دے گی ۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ گیارہ ماہ میں انہوں نے جو بھی کوشش کی ہے وہ ناکام ہوئے ہیں اور جب انکو توشہ خانہ اور نیب سے کچھ نہیں ملا تو ایک نیا طریقہ اپنایا گیا ہے کہ درجنوں کی تعداد میں ایف آئی آر کاٹ دیں جائیں اور اسوقت عمران خان کے خلاف 76 مقدمات درج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جس طرح عدالتوں پر حملے کیے جارہے ہیں پورا نظام خطرے میں آیا ہوا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے حکومت کو مذاکرات کے لیے سیاسی دعوت دے دی ہے،اب دیکھتے ہیں کیا رسپانس آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version