Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ایچ ایف کا قومی ترقی اور انسانی امداد کے ردعمل میں بین الاقوامی رفاحی تنظیموں کی اہمیت پر زور

عادل شیرازکا کہنا ہے کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے متاثرہ علاقوں میں دیرپا اثرات چھوڑے ہیں متاثرہ علاقوں کے لیے وسیع پیمانے پر بحالی اورتعمیرنو کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ایچ ایف کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ عادل شیرازنے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 2023 — 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دیرپا اثرات چھوڑے ہیں، جس کے لیے وسیع پیمانے پر بحالی اور تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کا سفر اجتماعی کوششوں اور پائیداری کا متقاضی ہے۔

انہوں نے پاکستان میں قومی ترقی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل میں INGOs کے کردار پر روشنی ڈالی اورکہا کہ سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی مکمل بحالی کا راستہ ایک پیچیدہ کوشش ہے، جس کے لیے نہ صرف فوری اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ طویل مدتی حل کے لیے مستقل عزم کی بھی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2022 میں پی ایچ ایف کی رکن تنظیموں (INGOs) نے پورے پاکستان میں 400 منصوبوں پر عمل درآمد کیا، بشمول آزاد جموں و کشمیراورگلگت بلتستان۔ ان منصوبوں میں 296 ایسے اقدامات شامل تھے جو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے وقف تھے، خاص طور پر 2022 کے سیلاب کے جواب میں، اور 104 ترقیاتی کاوشوں پر مرکوز تھے۔ 330 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے ان اقدامات سے ملک بھر میں 21.2 ملین سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔

حکومتی تعاون اور مدد پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان شراکت داری کامیابی کے پل کے طورپرابھرتی ہے، ایک پائیدار اور خوشحال پاکستان کے لیے کمیونٹیز کو متحد کرتی ہے۔ حکومت پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول INGOs (بین اقوامی فلاحی تنظیمیں) کے ساتھ قدرتی آفات کے خطرے میں کمی، پائیدار بحالی، اور تعمیر نو (4RF) ماڈل کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران پی ایچ ایف کے کنٹری کوآرڈینیٹر سید شاہد کاظمی نے بتایا کہ پی ایچ ایف 44 غیر سرکاری تنظیموں (INGOs) کا نمائندہ فورم ہے جو حکومت پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، انسانی ہمدردی کے اسٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور میڈیا کے ساتھ راوبط میں INGOs کے لیے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ملک میں قدرتی آفات یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے دوران قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے اہم کردار کو سراہا۔

پی ایچ ایف کے کنٹری کوآرڈینیٹر نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹ کے چیئرمین نے پی ایچ ایف کی ایگزیکٹیو کمیٹی برائے ایجوکیشن پارلیمنٹرین کاکس سے تین معزز اراکین کو نامزد کیا ہے، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرے میں کمی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومتی سطح پر یہ تسلیم پی ایچ ایف کی رکن تنظیموں کے قومی ترقی اور انسانی ہمدردی کے ردعمل میں کردار کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version