پاکستان ریلوے کا ٹریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے جس کے باعث حادثات پیش آنے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ریلوے حکام کی عدم توجہی کے باعث پاکستان ریلوے کا ٹریک جگہ جگہ سے متاثر ہونے لگا ہے اور ریلوے ٹریک متاثر ہونے کے باعث گزرنے والی ٹرینوں کو حادثات پیش آنے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
ریلوے ٹریک متاثر ہونے سے اور ٹرینوں کی آمدورفت سے آبادی کے گھروں کی دیواریں اور چھتیں تھرتھراہٹ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی ہے۔
ریلوے ٹریک کے قریب آبادیوں کا سوریج پانی ٹریک کو متاثر کرنے لگا ہے، بادامی باغ ریلوے ٹریک متعدد جگہ سے فش پلیٹس بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق ڈی ایس ریلوے لاہور طارق لطیف کے بعد کسی نے ریلوے ٹریک پر کام نہیں کیا، ریلوے ٹریک میں تین تین فٹ اور آٹھ فٹ کے پٹری پیس لگا کر ریلوے انتظامیہ اپنا کام چلانے پر مجبور ہیں، ریلوے ٹریک زیادہ متاثر ہونے کے بعد 42 فٹ کا پٹری پیس زیادہ کارآمد ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے میڈز کو ریلوے انتظامیہ کیجانب سے ٹریک کے لینتھی پیس فراہم نہیں کیئے جاتے، بادامی باغ جگہ جگہ سے ریلوے ٹریک متاثر ہونے کے سبب کسی وقت بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے، بادامی باغ پھاٹک نمبر 3 اور پھاٹک نمبر 4 کے قریب ریلوے ٹریک غیر محفوظ ہے اور اس کے قریب جگہ جگہ قابضین کی بھی برمار ہے۔
ریلوے ٹریک میں جرمن اور اٹلی سے آنے والی فش پلیٹس زیادہ کار آمد اور ٹریک کو محفوظ بناتی ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
